خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 633

خطابات شوری جلد سوم ۶۳۳ درت ۱۹۵۶ء ان کے اندر یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! یہ شخص ختم ہو جائے کیونکہ یہ ہمارے راستہ میں روک بنا ہوا ہے اگر یہ رستہ سے ہٹ جائے تو یہ جماعت بھی ختم ہو جائے گی۔جب مجھے محسوس ہوا کہ اس عورت نے مجھ پر توجہ کی تھی تو میں نے اُسے کہا کہ تم نے بے خبری کے عائم میں مجھ پر توجہ کر لی تھی اب مجھ پر توجہ کرو تو جانوں۔اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ ایک مرد اُس عورت کو اشارہ کر رہا ہے۔اِس پر اُس عورت نے بھی انگلی سے اُسے اشارہ کیا۔میں نے اس وقت اس کی انگلی پر توجہ کی اور میں نے دیکھا کہ اس توجہ کے نتیجہ میں اُس کی انگلی بالکل اکٹر گئی۔پھر میں نے اس کی انگلی پکڑ کر دیکھا تو وہ مڑتی نہیں تھی۔اُس مرد نے بھی اس کی انگلی مروڑی لیکن وہ نہ مُڑی۔اس سے میں نے یہ سمجھا کہ میری یہ بیماری چونکہ دشمنوں کی ایک مخفی توجہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی، اس لئے اس کا تعلق زیادہ تر دعاؤں سے ہی ہے۔چنانچہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جن دنوں کثرت سے دُعائیں ہوں مجھے آرام آنا شروع ہو جاتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ میں نے بہت زیادہ کام کیا تھا لیکن چونکہ دوستوں نے دعا کی طرف خاص توجہ کی تھی اس لئے نہ صرف میری طبیعت پر کام کا کوئی بوجھ نہ پڑا بلکہ بعد میں بھی میری صحت ترقی کرتی گئی۔سوئٹزر لینڈ میں بھی میں نے رویا دیکھا تھا کہ ہماری جماعت کے ہزاروں ہزار آدمی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور میرے لئے دُعا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے خدا! اس نے تیری کتاب قرآن کریم کو ہمارے اتنا قریب کر دیا تھا کہ ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا یہ ہم پر ہی نازل ہو رہی ہے۔ابھی ہم اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ یہ شخص ہم سے جُدا ہو جائے تو ہم پر رحم کر اور اسے ہمارے درمیان رہنے دے کے اس وقت میں نے سمجھا کہ اس رویا میں میری موت کی طرف اشارہ ہے لیکن بعد میں میں نے دیکھا کہ میری صحت ترقی کرنے لگی اور کچھ دنوں کے بعد اُس دُعا کے نتیجہ میں جو رمضان کے آخر میں ربوہ میں ہوئی تھی میری طبیعت بڑی حد تک اچھی ہو گئی۔میں گھر میں بھی کہا کرتا ہوں کہ میری بیماری جتاتی قسم کی بیماری ہے۔ایک منٹ میں طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور ایک منٹ میں سنبھل جاتی ہے۔جب تکلیف کا اظہار کرتا ہوں تو گھر والے کہتے ہیں ابھی تو آپ اچھے بھلے تھے اور اب آپ تکلیف کا اظہار کر رہے ہیں۔