خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 631
خطابات شوری جلد سوم ۶۳۱ رت ۱۹۵۶ء ناصر آباد میں بھی بڑے سائز کا فجری ہم پیدا ہو گیا ہے۔پس کوشش کی جائے تو بہت حد تک کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔میں نے قادیان میں دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ ہر زمیندار آم کے چار چار درخت ہر کھیت میں بوئے لیکن اُنہوں نے میری بات نہ مانی۔اگر اُنہوں نے اس ہدایت پر عمل کیا ہوتا تو ہر احمدی زمیندار کے پاس ایک باغ ہوتا۔پھر الگ الگ لگائے ہوئے درخت پھل بھی زیادہ دیتے ہیں۔دیوانی وال کے تکیہ میں ایک آم کا درخت تھاوہ ہر سال تین تین چار چار سو روپیہ پر پک جاتا تھا گویا ایک ایک ایکڑ سے تین تین چار چار سو کی زائد آمد پیدا کی جاسکتی ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ آم کا درخت سات سال کے بعد پھل دیتا ہے اور مالٹا کا درخت پانچویں چھٹے سال پھل دیتا ہے لیکن آم کا درخت سو سال تک پھل دیتا چلا جاتا ہے۔شمالا مار باغ میں بعض ایسے درخت ہیں جو اڑھائی اڑھائی سو سال سے پھل دے رہے ہیں۔بہر حال عام طور پر آم کا درخت دو نسلوں تک پھل دیتا چلا جاتا ہے۔جماعت کو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور ہر احمدی کو یہ نصیحت کرنی چاہئے کہ وہ اپنے ہر کھیت میں پھلوں کے چار چار درخت لگائے۔آٹھ سال کے بعد ان کے پاس ایک مستقل باغ ہو جائے گا اور اس سے زائد آمد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ہماری جماعت کا ایک بڑا حصہ زمینداروں پر مشتمل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ وہ حارث اور حراث ہو گا یعنی وہ خود بھی زمیندار ہو گا اور ایک بڑے زمیندار کا بیٹا بھی ہو گا اس لئے آپ کی جماعت کو سمجھ لینا چاہئے کہ زمیندارہ کام میں بہت برکت ہے۔پس زمینداروں کو چاہئے کہ وہ صحیح طور پر کام کریں اور اپنی آمد اور پیدا وار کو بڑھانے کی کوشش کریں۔جو سکیم زراعت کے متعلق پیش کی گئی ہے اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اس کے علمی حصے ضلع کی جماعت پورے نہیں کر سکتی۔ضلع کی امارت آگے کئی امارتوں میں تقسیم ہوتی ہے۔مثلاً پوہلہ مہاراں کی جماعت کو ہی لے لو اس حلقہ کی امارت اپنی امارت کے حلقہ کی جماعتوں کو ہی ہدایات جاری کر سکتی ہے اور اپنے علاقہ کے متعلق ہی معلومات حاصل کر سکتی ہے۔