خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 629
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۹ درت ۱۹۵۶ء بہر حال بعض رپورٹیں گورنمنٹ کی بھی غلط ہوتی ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ گورنمنٹ کی رپورٹیں درست ہوتی ہیں اور ان کے مطابق عمل کرنے سے زمیندار اپنی آمد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔کماد کی فصل کے متعلق بھی تجربہ کیا گیا ہے کہ بعض جگہ اس کی ایک خاص قسم اچھی پیدا ہوتی ہے اور بعض جگہ دوسری۔پھر بعض جگہ موڈھا کماد کام دے جاتا ہے اور بعض جگہ نہیں۔مثلاً سندھ میں موڈھا کماد کام نہیں دیتا لیکن مجھے ایک زمیندار نے بتایا وہ جالندھر کے تھے ) کہ ہمارے ہاں گیارہ سال تک موڈھا کماد چلا گیا۔اس سال تو فصل کم ہوئی لیکن دوسرے سال اس میں زیادتی ہوئی اور پھر چھ سال تک اس میں زیادتی ہوتی چلی گئی۔چھ سال کے بعد مقدار میں کمی آنی شروع ہوئی۔ماریشس کے علاقہ میں گیارہ گیارہ بارہ بارہ سال تک موڈھا چلا آتا ہے۔وہاں زمین اچھی ہے لیکن سندھ میں دوسرے سال ہی فصل خراب ہو جاتی ہے اگر مرکز اس قسم کے تجربات اپنی نگرانی میں کرائے تو تھوڑے سے ہی عرصہ میں بہت سی چیزوں کی لسٹ بن جائے گی اور اس سے زمیندار فائدہ اُٹھا سکیں گے۔راجپورہ ضلع گورداسپور میں ریتلی زمین تھی ، وہاں گندم اور کماد کی کاشت کی جاتی تھی۔ایک دفعہ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک شخص نے کسی جگہ بیٹھ کر مونگ پھلی کھائی۔بعض مونگ پھلیاں خراب تھیں اُس نے اُنہیں زمین پر پھینک دیا۔ان پر اتفاقاً جانور کا گو بر پڑا۔جس کی وجہ سے اس قدر مونگ پھلی نکلی کہ اگر اسے ایکڑوں کے حساب سے بویا جاتا تو فی ایکٹر ہزار ہزار روپیہ آمد ہو جاتی۔اسی طرح بعض اور چیزیں بھی ہیں جو بعض علاقوں میں اچھی ہوتی ہیں لیکن بعض میں نہیں ہوتیں۔سندھ والوں نے مجھے بتایا کہ یہاں ہندوستانی قسم کے آم نہیں ہوتے۔ملتان میں ایک خاص قسم کا آم ہوتا ہے۔مرزا مظفر احمد وہاں ڈی۔سی مقرر ہوئے تو میں نے ان سے کہا اس کا ایک پیوند حاصل کرو تا کہ اسے سندھ میں اپنی زمینوں میں بویا جائے۔اُنہوں نے کوشش کی لیکن پیوند نہ مل سکا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر دوسرے لوگ بھی اسی قسم کو پیدا کرنے لگ گئے تو ہمارا افخر جاتا رہے گا۔وہاں پادریوں کا ایک ہسپتال ہے اس قبیلہ کے لوگ بالعموم اسی ہسپتال سے علاج کراتے ہیں۔ان کے ذریعہ بھی ہم نے پیوند حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن پیوند نہ ملا۔بعد میں ایسا اتفاق ہوا کہ اس قبیلہ نے ملک عمر علی صاحب سے کسی معاملہ میں