خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 628
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۸ رت ۱۹۵۶ء کیا جاسکتا ہے۔پھر بعض علاقوں میں کپاس کی امریکن قسم اچھی ہوتی ہے اور بعض میں دیسی کپاس بوئیں تو اس سے زیادہ آمد ہو سکتی ہے۔اب یہ کہ کس علاقہ میں کپاس کی کون سی فصل ہوئی جائے اس کا فیصلہ مرکز کر سکتا ہے۔مرکز ماہر فن مقرر کرے، وہ گورنمنٹ کی ہدایات اور رپورٹیں پڑھتا ہے۔پھر لائبریری میں اس قسم کا لٹریچر منگوایا جائے جس کا وہ مطالعہ کرے اور اس کے مطابق احمدی زمینداروں کو ہدایات جاری کرے۔مثلاً ضلع سیالکوٹ کے متعلق گورنمنٹ کی زرعی رپورٹ پڑھ کر جماعتوں کو یہ اطلاع دے کہ فلاں فلاں حصہ میں چاول کی فلاں فصل ہو سکتی ہے اور فلاں فلاں حصہ میں فلاں فصل۔پھر آجکل گندم کی بعض خاص اقسام دریافت کی گئی ہیں۔بعض علاقوں میں ایک قسم اچھی پیدا ہوتی ہے۔پھر گورنمنٹ نے بھی بعض علاقوں میں یہ شرط رکھی ہے کہ ان میں صرف فلاں قسم کی گندم بوئی جائے۔مثلاً زمین زیادہ اعلیٰ ہو تو اس میں ۵۹۱ بوئی جائے اور اس سے ادنیٰ میں ۵۱۸ کی کاشت کی جائے۔پس ما ہرفن مطالعہ کرنے کے بعد ہر ضلع کی زمین کو تقسیم کرے اور جماعتوں کو اطلاع دے تا ادنی اور اعلیٰ ٹکڑوں کو آپس میں بدلنے سے نقصان نہ ہو۔احمد نگر کی زمین کے متعلق گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یہاں باسمتی نہیں ہوتی۔میں زچ ہو گیا اور منتظمین سے کہا کہ وہ دو کنال زمین میں باسمتی بوئیں اور دیکھیں کہ اس سے کس قدر پیداوار ہوتی ہے چنانچہ ایک ٹکڑا زمین جو چار کنال سے بھی کم تھا بویا گیا اور اس سے نومن کے قریب باسمتی نکلی۔اس حساب سے ایک ایکٹر میں ۱۸۔۱۹ من باسمتی پیدا ہوسکتی ہے۔اس طرح گورنمنٹ کی رپورٹ غلط ثابت ہوئی کیونکہ باسمتی بونے سے فی ایکٹر آمد۔۳۶۰ روپیہ کے قریب ہو جاتی ہے لیکن جھونا ہونے سے نوے یا سو روپیہ آمد ہوتی ہے۔پس مرکز ایسا انتظام کرے کہ وہ اپنے طور پر بھی تجربہ کر کے زمینداروں کو مناسب ہدایات جاری کرے اگر زمیندار ان ہدایات پر عمل کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کریں تو ان میں سے کسی سے کہیں کہ وہ فلاں قسم کی فصل کسی چھوٹے سے ٹکڑا میں کاشت کرے تاکہ پتہ لگے کرہ فصل کیسی ہوتی ہے۔پھر اگر وہ تجربہ کامیاب ہو جائے تو دوسروں سے بھی ایسا کرنے کے لئے کہا جائے۔