خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 627

خطابات شوری جلد سوم ۶۲۷ رت ۱۹۵۶ء کون سے ٹکڑوں میں کون سی فصل کی کون سی قسم کاشت کی جائے۔ضلع وار کمیٹی اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی اور نہ اس کے متعلق وہ تفصیلی علم حاصل کر سکتی ہے اس کا فیصلہ گورنمنٹ کے گزٹیئر (GAZETTEER) یا رپورٹیں پڑھ کر کیا جاسکتا ہے۔سنٹر کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ ایسے آدمی مقرر کرے جو گورنمنٹ کا گزٹیئر اور رپورٹیں پڑھیں اور معلوم کریں کہ کس کس ضلع کے کس کس ٹکڑا میں فصل کی کون کون سی اقسام پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً کسی علاقہ میں کپاس کی ایک قسم اچھی ہوگی اور کسی میں دوسری اور بعض علاقے ایسے ہوں گے جہاں کپاس ہو ہی نہیں سکتی۔اب یہ واقفیت پہنچانا مرکز کا کام ہے۔احمد نگر میں ہمیں زمین الاٹ ہوئی تو میں نے دیکھا وہاں کپاس کے پودے بہت اچھے قد کے تھے۔میں نے سمجھا کہ سندھ میں اس قسم کی کپاس ہو تو بارہ بارہ تیرہ تیرہ من کپاس فی ایکڑ نکلے لیکن ایک زمیندار نے مجھے بتایا کہ یہاں تو فی ایکڑ اڑھائی تین من سے زیادہ نہیں نکلے گی ، چنانچہ ایسا ہی ہوا بعد میں پتہ لگا کہ گورنمنٹ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس علاقہ میں کپاس نہیں ہوسکتی۔پھر ایک احمدی انسپکٹر نے کہا یہاں تمبا کو بوئیں تو اچھی آمد ہو سکتی ہے۔بعض دوستوں نے اس وقت اعتراض بھی کیا کہ تمباکو کے استعمال سے تو ہم منع کرتے ہیں۔میں نے کہا بے شک ہم نہیں پیتے مگر اور پینے والے تو ہیں اس لئے تمباکو کو بونے میں کیا حرج ہے۔میں نے اس انسپکٹر سے کہا کہ تمبا کو پر ٹیکس زیادہ لگتا ہے۔میں نے قادیان کے قریب راجپورہ میں دو کنال تمبا کو لگوایا تھا تو اس پر ایک سور و پیہ ٹیکس لگ گیا تھا۔اس انسپکٹر نے کہا گورنمنٹ نے سارے ملک کا سروے کرنے کے بعد معلوم کیا ہے کہ کس کس علاقہ میں کس کس قدر مقدار میں تمباکو فی ایکٹر پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے مطابق اُس نے ٹیکس کی مقدار مقرر کی ہے۔اب اگر آپ کے علاقہ میں تمبا کوکم پیدا ہوتا ہے اور کوئی انسپکٹر زیادہ ٹیکس لگا تا ہے اور آپ گورنمنٹ کے پاس احتجاج کرتے ہیں تو آپ کے احتجاج کو درست تسلیم کیا جائے گا اور اُس کی رپورٹ کو غلط سمجھا جائے گا بعض علاقوں میں ۶۰۔۶۰ من تمبا کو فی ایکٹر پیدا ہوتا ہے۔وہاں اگر انسپکٹر کے لگائے ہوئے زیادہ ٹیکس پر زمیندار احتجاج کرے تو اس کی طرف گورنمنٹ توجہ نہیں دے گی اور انسپکٹر کے لگائے ہوئے ٹیکس کو منظور کرے گی۔بہر حال ہر علاقہ کے لئے مناسب ٹیکس کی مقدار مقرر کی گئی ہے اس سے زیادہ ٹیکس لگے تو اس پر احتجاج