خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 626
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۶ رت ۱۹۵۶ء کہ زمیندارہ کام کے لئے ضروری ہے کہ سختی سے کام کروایا جائے اور قانون کی پابندی کروائی جائے ، ورنہ تم اس کام میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔صرف ایک شخص کو ناظر زراعت لگا دینے سے زراعت نہیں ہو سکتی ، نہ ہی زراعت کے پاس شدہ نوجوان کافی ہو سکتے ہیں۔اصل کام محنت کرنا ہے۔گھاس اُکھڑوانے کا قانون پاس کر دینا بہت آسان ہے لیکن گھاس اُکھڑوانا بہت مشکل ہے۔کام کروانے کے لئے کچھ عرصہ محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے پھر مزارعہ خود بھی ماہر ہو جاتا ہے۔میں ایک دفعہ سندھ گیا تو میرے پاس شکایت کی گئی کہ مزارع سوئے رہتے ہیں اور پانی ضائع ہو جاتا ہے میں نے کارکنوں کو لکھا کہ تم خود پانچ چھ دن جا گو اور کام کی نگرانی کرو تو یہ کام ہو جائے گا۔پس ضروری امر یہ ہے کہ نگرانی کی جائے اور کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے۔پھر چاہے کوئی مولوی ہی ہو ، وہ کام چلا لے گا۔وہ گاؤں میں جا کر جب کسی زمیندار کا ہل چلائے گا اور پھر اُسے وعظ بھی کرے گا تو اُس کا اثر یقیناً زیادہ ہو گا۔اسی طرح لائبریری میں اِس موضوع پر لٹریچر جمع کرو اور پھر طلباء کو اس کے پڑھنے کی تلقین کرو تا کہ وہ نئے آلات اور نئے طریق کاشت سے واقف ہوسکیں۔مثلاً آجکل حکومت مشینی کھاد پر زور دیتی ہے مجھے ایک شخص نے بتایا کہ اس کھاد سے اس کی فصل خراب ہوگئی ہے۔اس پر میں نے اُسے ایکسپرٹ کے پاس بھیجا۔اُس نے کہا مشینی کھاد کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ سبزہ کی یا جانور کی کھاد بھی ہو۔اگر دوسری کھا د اس کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہو تو یہ فصل کو خراب کر دیتی ہے پھر ہم نے یہی طریق اختیار کیا تو فصل بجائے خراب ہونے کے اچھی ہوئی۔یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اگر ان کے متعلق تجربہ حاصل ہو جائے تو بڑے مفید نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔“ سب کمیٹی کی تجویز کہ باقی اضلاع میں صرف ضلعوار زراعتی کمیٹیاں زراعتی کمیٹیاں حضور نے فرمایا:- مقرر کی جائیں“ پر چند نمائندگان نے اظہارِ خیال کیا۔اس کے بعد اصل چیز جس کی طرف نہ ناظر صاحب زراعت نے توجہ دلائی ہے اور نہ وکیل الزراعت صاحب نے وہ یہ ہے کہ سب سے بڑی پرابلم (PROBLEM) یہ ہوتی ہے کہ