خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 625
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۵ ماورت ۱۹۵۶ء کے بعد اُس نے تھوڑی سی کھا د تیار کی۔یہ نقص محض محنت نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔اگر ہمارے مبلغ زراعت کا کام سیکھ لیں تو وہ ہمیں بہت کچھ کام دے سکتے ہیں بلکہ ہم ان سے ایڈوائزر کا کام بھی لے سکتے ہیں۔پھر اختر صاحب بھی اُن سے یہ فن سیکھ سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے آدمی مہیا کئے جائیں جو ہل چلانا بھی جانتے ہوں اور زراعت کے کام سے بھی واقفیت رکھتے ہوں۔ایک دوست نے ابھی کہا ہے کہ کھیت میں سے گھاس اُکھاڑ دی جائے تو فصل اچھی ہوسکتی ہے لیکن بڑی مصیبت تو یہی ہے کہ زمیندار اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔میں ایک دفعہ سندھ کی زمینوں پر گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ اگر دس ہزار پودا کپاس کا تھا تو پچاس ہزار پودا گھاس کا تھا پس یہ بات کہنی تو بہت آسان ہے کہ زمین سے گھاس نکلوا دو تو فصل اچھی ہو سکتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ گھاس نکلوانے کے لئے کیا طریق اختیار کیا جائے۔زمیندار تو گھاس نکالنے سے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک امیر کا واقعہ سُنایا کرتے تھے کہ اُسے ایک دفعہ یہ شکایت پیدا ہوئی کہ کھانے کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بجٹ بڑھ جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے سٹور کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور کھانے کی اشیاء گیدڑ اور گتے وغیرہ کھا جاتے ہیں آپ سٹور کو دروازہ لگوا دیں تو بجٹ کم ہو سکتا ہے چنانچہ اُس نے سٹور کو دروازہ لگوا دیا۔گیدڑوں نے یہ بات سنی تو اُنہوں نے رونا شروع کر دیا۔ایک بوڑھا گیدڑ اُن کے رونے کی آواز سُن کر آیا تو اُس نے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے تم رو کیوں رہے ہو؟ اُنہوں نے سارا واقعہ بیان کر دیا اور کہا ہم اسی سٹور سے کھانا کھایا کرتے ہیں اب چونکہ سٹور کا دروازہ بن گیا ہے اس لئے ہمارے گزارے کی کوئی صورت نہیں رہی، اب تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔بوڑھے گیدڑ نے کہا تمہاری عقل ماری گئی ہے جس شخص کو میں سال تک سٹور کو دروازہ لگوانے کا خیال نہیں آیا ، اُس کے سٹور کا دروازہ بند کون کرے گا۔پس اصل بات تو یہ ہے کہ کام کس طرح کرایا جائے ورنہ سکیم پاس کر دینے سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔میں جن لوگوں کو زمین کے کام پر لگا تا ہوں انہیں ہمیشہ یہی نصیحت کرتا ہوں