خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 624
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۴ رت ۱۹۵۶ء ہمارے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ہر مبلغ کو کوئی نہ کوئی فن آنا چاہئے میں نے جامعہ والوں کو کہا ہے کہ ہر مولوی کو کوئی نہ کوئی فن آنا چاہئے۔مثلاً اُسے موٹر ڈرائیوری اور مکینک کا کام سکھایا جائے۔اسی طرح اور فنون سکھائے جائیں تا کہ وہ قوم کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید ثابت ہوں۔یہ دونوں لڑکے جنہیں زراعت کے کام پر لگایا گیا ہے مخلص خاندانوں کے ممبر ہیں اور بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔اگر وہ ایکسپرٹ ہو جائیں تو ہم انہیں نظارت زراعت میں ایڈوائزر کے طور پر لگا لیں گے۔بہر حال میرے نزدیک اختر صاحب اس محکمہ کی نگرانی نہیں کر سکتے۔اُنہوں نے یہ کام نہ کبھی خود کیا ہے اور نہ کسی اور سے کروایا ہے۔وہ ریلوے میں ساری عمر ملازمت کرتے رہے ہیں اس لئے وہ ریلوں کے ٹائم ٹیبل تو بتا سکتے ہیں مگر زراعت کی نگرانی نہیں کر سکتے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم بعض مبلغوں کو یہ کام سکھا رہے ہیں اور اُمید ہے کہ چند ماہ میں وہ اس بارہ میں مشورے دینے کے اہل ہو جائیں گے۔میں اکثر زمینوں پر سیر کے لئے جاتا ہوں۔وہاں ایک دفعہ میں نے اپنے مالی کو کہا کہ کھاد بناؤ۔میں نے اُسے ہدایت دی کہ آٹھ دس فٹ گہرا گڑھا کھودو۔جو قریباً اسقدر چوڑا بھی ہو۔اس میں درختوں اور پودوں کے پتے ڈال دو اور اُس پر مٹی ڈال کر پانی دے دو تو وہ گل سڑ جائیں۔کچھ دنوں کے بعد میں پھر سیر کے لئے گیا اور اُس سے دریافت کیا کہ کیا گڑھا تیار ہو گیا ہے تو اُس نے کہا میں اس بارہ میں سوچ رہا ہوں۔پانچ سات دن کے بعد پھر گیا تو اُس نے ایک ٹوکری کے برابر گڑھا مجھے دکھایا اور کہا اسے میں جلد پورا کر دوں گا۔دس بارہ دن کے بعد پھر گیا تو اُس نے گڑھا تو بنا دیا تھا لیکن ابھی پتے نہیں ڈالے تھے۔میں نے دریافت کیا تو اُس نے کہا میں پتے جمع کر رہا ہوں۔پھر گیا تو دریافت کیا کہ کیا پتے جمع ہو گئے ہیں؟ تو اُس نے کہا پتے جمع کر لئے ہیں۔میں نے کہا ان پر مٹی ڈالو اور پھر پانی ڈالو تا وہ گل جائیں تو وہ کہنے لگا ٹیوب ویل کی بجلی خراب ہوگئی ہے۔جب ٹیوب ویل چلا اور میں نے کہا تم نے اس گڑھے میں پانی ڈالا ہے تو وہ کہنے لگا آج تو فلاں طرف پانی لگایا ہے ، کل اس طرف پانی لگاؤں گا تو اس گڑھے میں بھی پانی پڑ جائے گا۔غرض ڈیڑھ ماہ