خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 623
خطابات شوری جلد سوم ۶۲۳ اورت ۱۹۵۶ء مہارت حاصل کر لی ہے۔اُنہوں نے مجھے بتایا کہ حیدرآباد کے ضلع میں ایک زمیندار ہے، اُس نے ۷۰ من کپاس فی ایکٹر اور ۳۶ من فی ایکٹر تو ریا پیدا کیا ہے اگر اتنی پیدا وار ہو جائے تو اٹلی والوں کی سی پیداوار ہو جاتی ہے کیونکہ اس طرح فی ایکٹر ہزار ڈیڑھ ہزار روپے کی آمد ہو جاتی ہے۔مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آتا کیونکہ میں نے سندھ میں کوئی زمین اس کے لگ بھگ پیداوار دینے والی بھی نہیں دیکھی تھی۔چنانچہ اب وہ سندھ گئے تو میں نے انہیں کہا ہے کہ وہ اس زمیندار کا فارم دیکھ کر آئیں۔بہر حال یہ بات درست نہیں کہ ہماری جماعت میں اس کام کا کوئی ماہر نہیں۔ہماری جماعت میں بھی ماہر موجود ہیں لیکن جہاں وہ زمیندارہ کام کے ماہر ہیں وہاں ٹلانے کے بھی ماہر ہیں۔چنانچہ ایک دوست لمبے عرصہ تک مجھے خطوط لکھتے رہے کہ مجھے سلسلہ کا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔اس کے باپ بھی ایک محکمہ کے سیکرٹری رہے ہیں اور بھائی بھی بڑے عہدہ پر کام کرتا رہا ہے۔میں نے انہیں کہا آپ آجائیں۔ہم آپ کو گورنمنٹ سے زیادہ گزارہ دے دیں گے۔وہ زراعت کے ماہر ہیں اور انہیں اس کام کا وسیع تجربہ ہے۔جہاں بھی کام خراب ہوتا ہے گورنمنٹ انہیں وہاں بھیج دیتی ہے اور اُنہوں نے ہزار ہزار روپیہ فی ایکٹر آمد پیدا کی ہے لیکن ہر دفعہ جب میں خط لکھتا ہوں تو وہ چُپ ہو جاتے ہیں اور پھر دوسال کے بعد اُن کا خط آ جاتا ہے کہ حضور مجھے سلسلہ کی خدمت کرنے کا موقع دیں، میری بدقسمتی ہے کہ مجھے ابھی تک جماعت کے کسی کام پر نہیں لگایا گیا۔میں پھر انہیں لکھتا ہوں کہ آپ چھٹی لے کر آجائیں اور یہاں کچھ عرصہ کام کریں لیکن وہ پھر چپ ہو جاتے ہیں۔یورپ کے سفر سے واپسی کے بعد وہ پھر میرے پاس آئے اور کہا اب کوئی خدمت میرے سپرد کر دیں میں آجاؤں گا۔میں نے کہا ہم آپ کو کام پر لگانے کے لئے تیار ہیں لیکن آپ پورے طور سے فارغ ہو کر آجائیں۔اس پر اُن کی طرف سے اطلاع آئی کہ میں اب ڈپٹی ڈائر یکٹر آف ایگریکلچر لگ گیا ہوں اس لئے اب میں نہیں آ سکتا۔غرض میں نے دیکھا ہے کہ وہ دوست زراعت کے کام میں ماہر ہیں لیکن ٹلانے میں بھی بڑے ماہر ہیں۔اب جیسا کہ میں نے بتایا ہے دو شاہدین کو میں نے زراعت کے کام پر لگایا ہے کالج میں انہیں دیسی طب اور ٹیکہ لگانے کا کام بھی سکھایا جاتا ہے۔اسی طرح اُمید ہے وہ