خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 618
خطابات شوری جلد سوم ۶۱۸ رت ۱۹۵۶ء بھرتی ہو جاؤ اور کماؤ۔بے شک تنخواہ کم ہے لیکن تاہم کچھ نہ کچھ تو آئے گا اور جو کچھ آئے گا وہ بریکاری سے بہر حال بہتر ہو گا۔میراثی نے کہا تم بھی عجیب ہو، بیویاں تو اپنے خاوندوں کی خیر خواہ ہوتی ہیں اور تم مجھے فوج میں بھرتی کرا کے مروانا چاہتی ہو۔اُس کی بیوی نے اُسے سمجھانے کے لئے چکی میں چند دانے ڈالے اور چکی کو چلا یا اس پر آٹے کے ساتھ بعض سالم دانے بھی نکل آئے۔چنانچہ اس نے میراثی سے کہا کہ دیکھو جنہیں خدا تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہتا ہے وہ چکی کے پاٹوں کے درمیان سے بھی سالم نکل آتے ہیں۔میں نہیں سمجھتی کہ تم نے اپنے متعلق یہ خیال کیوں کر لیا کہ تم ضرور مر جاؤ گے جو لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں وہ سارے کے سارے تو نہیں مر جاتے۔اس پر میراثی نے کہا مجھے تو پسے ہونے دانوں میں ہی سمجھ لے۔یہی حالت ہمارے زراعت کے محکمہ کی ہے۔اُنہوں نے پہلے سے ہی خدا تعالیٰ پر بدظنی کر لی ہے کہ اس سال بھی ضرور تبا ہی آئے گی حالانکہ پچھلے سال بہت زیادہ تباہی آئی تھی اور پھر بھی دو لاکھ روپیہ کا منافع ہوا تھا لیکن اس سال نفع کا اندازہ صرف ڈیڑھ لاکھ کیا گیا ہے۔میں نے جب وکیل الا علی کو پکڑا کہ یہ کیا اندھیر ہے؟ تو انہوں نے بتایا یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ ممکن ہے کوئی تباہی آجائے۔حالانکہ مومن شاعر نہیں ہوتا۔شاعروں کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے بے شک فرمایا ہے کہ فِي كُلِ وَادٍ يَهِيمُونَ وہ ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو بجلی بھی گرے گی وہ ہمارے آشیانوں پر گرے گی لیکن مومن کی مثال شاعر کی نہیں ہوتی۔پھر بھی ہمارے محکمہ نے یہ سمجھ لیا کہ جو آفت بھی آئے گی وہ تحریک جدید کی زمینوں پر ہی آئے گی پس اگر احمدی زمیندار صحیح طور پر محنت کریں تو نہ صرف ان کی اپنی آمد میں ترقی ہوگی بلکہ جماعت کا بجٹ بھی بڑھ جائے گا اور ہمارا کام پہلے کی نسبت وسیع ہو جائے گا۔اٹلی میں ہمارے ایک مبلغ گئے تھے اُنہوں نے وہیں ایک عورت سے شادی کر لی ہے اُنہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں زمین کی اوسط آمد چودہ سو روپیہ فی ایکڑ ہے لیکن اگر اس کا نصف بھی لگا لیا جائے تب بھی سلسلہ کی زمینوں سے ستر لاکھ روپیہ کی آمد ہوسکتی ہے اور اگر اتنی آمد ہو جائے تو نہ صرف ہم کافی تعداد میں مساجد تعمیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے مشنوں کے اگلے دس سالوں کا خرچ بھی رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ ہم محنت سے کام کریں لیکن ہمارا حال