خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 616

خطابات شوری جلد سوم ۶۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء صحابہ کو دیکھ لو اُنہوں نے مدینہ کی زمین کو ایسا آبا د کیا کہ اس کی کھجور سارے عرب میں جاتی تھی۔دو دو چار چار کنال کے ٹکڑے ان کے پاس تھے لیکن وہ ان سے بہت زیادہ آمد پیدا کرتے تھے۔میں ایک دفعہ پھیر و پیچی گیا وہاں ایک احمدی دوست تھے جو اب سندھ میں میری زمینوں پر ناصر آباد میں رہتے ہیں۔وہ میرے استقبال کے لئے آئے اُن دنوں وہ مقروض رہتے تھے اگر چہ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں لیکن پھر بھی وہ مولوی کہلاتے ہیں اور تبلیغ کا اُنہیں بہت شوق ہے۔اسی شوق کی وجہ سے ان کا نام مولوی پڑ گیا۔رحمت علی اُن کا نام ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ ہمیشہ مقروض رہتے ہیں کیا آپ کی زمین کم ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟ اس پر وہ نہایت سادگی سے کہنے لگے حضور ! زمین تو بہت ہے۔دو کنال میرے باپ کی زمین تھی اور چار کنال میں نے گرو لے لی ہے، کچھ اللہ کی مار ہی ہے۔ان کا کنبہ کافی بڑا تھا۔چار پانچ لڑکیاں تھیں اور تین لڑکے تھے اور تین بچے پڑھتے تھے ان کا ایک لڑکا اُن دنوں قادیان میں پڑھتا تھا جو بعد میں ناصر آباد میں غلطی سے بندوق چل جانے کی وجہ سے شہید ہو گیا اور پھر خود میاں بیوی بھی تھے لیکن وہ سمجھتے تھے کہ چھ کنال زمین بہت زیادہ ہے اور اس میں کافی آمد پیدا ہو سکتی ہے اور اگر اس کے باوجود میں مقروض ہوں تو اس میں زمین کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مخفی گناہ کی سزا ہے۔اب دیکھ لو ان کے پاس صرف چھ کنال زمین تھی پھر بھی وہ زیادہ آمد نہ ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ کی مار سمجھتے تھے لیکن دوسرے زمیندار جن کے پاس پندرہ پندرہ ایکڑ زمین ہے یعنی مولوی رحمت علی صاحب کی زمین سے ہیں گنے زیادہ ان پر با وجود اس قدر زمین کے اللہ تعالیٰ کی مار پڑ رہی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس زمین کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتے۔پس دوست دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے زمینداروں کو صحیح طور پر محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ جو کچھ کمائی کرتے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ کا بھی حصہ ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ان کی کمائی میں برکت دے تو سلسلہ کی آمد بڑھ سکتی ہے۔اس وقت تحریک جدید کے پاس دس ہزار ایکڑ زمین ہے۔اگر وہ سرگودھا کی زمین