خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 603
خطابات شوری جلد سوم ۶۰۳ رت ۱۹۵۶ء لیکن وہ خود الہی انعامات سے محروم ہو جائے گا۔جب شوری نہیں تھی تب بھی کام چلتا تھا اور اب شوری بلائی جاتی ہے تب بھی کام چل رہا ہے پس تم حصہ لو یا نہ لو سلسلہ کا کام چلتا رہے گا۔ہاں اگر تم اس وقت جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتے اور انہیں اپنے لئے موجب عزت خیال نہیں کرتے تو تمہاری اولادیں آئندہ انعامات سے محروم ہو جائیں گی لوگ اپنی زندگیوں میں اپنی اولادوں کے لئے ہزاروں ہزار روپیہ کی جائیدادیں بنا جاتے ہیں تا ان کے کام آئیں۔تم بھی اگر سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتے رہو گے تو تمہارا ایسا کرنا تمہاری اولاد کے لئے ایک بڑی بھاری جائیداد ثابت ہو گا۔ت سلسلہ کا اعزاز یاد رکھو اگر تم میں سے کسی کو سلسلہ کے کسی کام کے لئے مقر کیا جائے تو اُس کا اُس سے بھاگنا سخت غلطی ہے۔تم سلسلہ کے کام کی سرانجام دہی میں ہرگز کوتاہی نہ کرو بلکہ اُسے اپنی عزت کا موجب سمجھو۔اگر تم سلسلہ کے کاموں کو عزت والا قرار دو گے تو خدا تعالیٰ بھی تمہیں عزت والا بنا دے گا۔گواس وقت جماعتوں کے پاس دولت نہیں، اسے دنیا میں کوئی اہمیت حاصل نہیں لیکن تھوڑے عرصہ میں ہی احمدیت دُنیا پر غالب آنے والی ہے اور اس کے آثار خدا تعالیٰ کے فضل سے نظر آ رہے ہیں۔بڑے بڑے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہو رہی ہے۔یہ بڑے بڑے لوگ جس علاقہ سے بھی آئیں گے وہ احمدیت کو زیادہ معزز سمجھیں گے اور احمدیت کی وجہ سے انہیں اور عزت حاصل ہو گی لیکن جو لوگ سلسلہ کے کاموں میں شریک ہونے کو ذلت اور وقت کا ضیاع سمجھیں گے ان کے علاقہ میں عزت دیر سے آئے گی۔اور اگر وہ عزت آگئی تو جن لوگوں نے اپنے وقت میں سلسلہ کی خدمت میں کوتاہی کی ہوگی اُن کی اولادیں اس عزت سے محروم کر دی جائیں گی۔پس آئندہ کے لئے احتیاط کرو اور ہمیشہ سلسلہ کے کاموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو۔تم میں سے کسی کو سلسلہ کے کسی کام کے لئے مقرر کیا جائے تو وہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے بہت بڑے خطاب سے نوازا ہے۔“