خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 599
خطابات شوری جلد سوم ۵۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء کوئی ماہر نہیں ملا تھا لیکن اب ایسا ماہر مل گیا ہے جس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمارے مبلغ کے ساتھ مل کر ترجمہ پر نظر ثانی کا کام کر دے گا اور عجیب بات یہ ہے کہ اُس نے بہت کم رقم اجرت کے طور پر مانگی ہے۔چنانچہ اس ماہر نے سارے قرآن کریم کے ترجمہ پر نظر ثانی کے عوض صرف ۱۸۰ پونڈ کی رقم طلب کی ہے۔ہمارے مبلغ نے لکھا ہے میں کوشش کروں گا کہ وہ اس مطالبہ میں بھی کسی قدر کمی کر دے مگر میں نے تحریک جدید کولکھا ہے کہ نظر ثانی کی اُجرت کو بڑھا دیں، کم نہ کریں کیونکہ وہ روسی زبان کا چوٹی کا ماہر ہے اور اس کی قابلیت کے مقابلے میں اُجرت بہت کم ہے۔اگر روسی زبان میں ترجمہ کا کام ہو جائے تو یہ ایسا اہم کارنامہ ہو گا جو اس وقت تک اور کسی نے نہیں کیا۔چوہدری صاحب (چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب) نے بتایا ہے کہ ایک امریکن نے جو روس گیا تھا اُنہیں لکھا کہ میں وہاں کے مسلمانوں سے بھی ملا اور اُنہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو قرآن کریم کا ترجمہ روسی زبان میں کراؤ اور پھر اُسے جلد شائع کرو کیونکہ وہ اگر ہمارے مرنے کے بعد یہاں آیا تو اسلام ختم ہو جائے گا۔اگر اسلام نے روس میں باقی رہنا ہے تو اُس کی ایک ہی صورت ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہماری زندگیوں میں یہاں آ جائے اور ہم اپنی اولادوں کو پڑھا دیں، پھر وہ اپنی اولادوں کو پڑھا ئیں۔ورنہ اگر اس میں کوئی وقفہ پڑ گیا اور ہم اپنی اولادوں کو قرآن کریم پڑھائے بغیر مر گئے تو روس سے اسلام ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔پس مجھے ہر وقت اس بات کا فکر رہتا ہے کہ کسی طرح قرآن کریم کا ترجمہ روسی زبان میں شائع ہو جائے اور ہم اُسے پہنچا دیں تا وہاں اسلام سے محبت رکھنے والے لوگ پیدا ہوں۔یورپ کے سفر میں یوگوسلاویہ کا ایک مسلمان جو احمدی ہو گیا تھا مجھے ملا۔اُس نے مجھے بتایا کہ پہلے قسطنطنیہ کے لوگ ہمارے ملک میں آتے تھے اور مسلمانوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے لیکن اب وہ ہمارے ملک میں نہیں آتے کیونکہ ملک کی حکومت اسلام کے خلاف ہے اور جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں وہ ختم ہو گئے تو وہاں اسلام بھی ختم ہو جائے گا۔آپ ہماری زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ کروائیں اور اس کی اشاعت ہمارے ملک میں کریں۔اگر اس ترجمہ میں دیر لگ گئی تو کروڑوں مسلمان اسلام کے حلقہ سے نکل جائیں گے۔