خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 598

خطابات شوری جلد سو ۵۹۸ اورت ۱۹۵۶ء اس کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔خصوصاً میاں عبدالمنان صاحب عمر کو جو اس کمپنی کے چیئر مین ہیں جس کے زیر اہتمام قرآن کریم کا ترجمہ غیر زبانوں میں شائع ہو رہا ہے انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے بزرگ والد کو قرآن سے عشق تھا۔اگر ان کی روح کو پتہ لگے کہ جس کمپنی کے زیر انتظام قرآن کریم کا مختلف زبانوں میں ترجمہ شائع ہورہا ہے، اُس کا چیئر مین اُن کا لڑکا ہے اور اُس کی نگرانی میں یہ سب کام ہو رہا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کی روح و جد میں آجائے گی۔مجھے یاد ہے آپ مجھے قرآن کریم پڑھاتے پڑھاتے کہتے جاتے تھے میاں! مجھے قرآن کریم سے عشق ہے اور واقع میں انہیں قرآن کریم سے عشق تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ان تراجم کی اشاعت کی سعادت میرے لئے رکھی ہوئی تھی ورنہ جس قدر عشق قرآن کریم سے حضرت خلیفہ اول کو تھا اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کوئی بعید امر نہیں تھا کہ تراجم قرآن کریم کا کام انہی کے زمانہ میں شروع ہو جاتا لیکن چونکہ یہ سعادت خدا تعالیٰ نے میرے لئے مقدر رکھی تھی اس لئے اُس زمانہ میں یہ کام شروع نہ ہوا تا قرآن کریم کے انوار کا ظہور میرے زمانہ خلافت میں ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام پورا ہو کہ تور آتا ہے تو ر ۲۰ اس الہام کا ایک مفہوم یہ بھی تھا کہ میرے زمانہ خلافت میں قرآن کریم کی اشاعت ہوگی اور اس کے تراجم مختلف زبانوں میں کئے جائیں گے کیونکہ قرآن کریم کا ایک نام تور بھی رکھا گیا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اب تک جو کچھ کام ہوا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے اور اُسی نے مختلف زبانیں جاننے والے آدمی ہمیں مہیا کئے۔ورنہ ہمارے پاس مختلف زبانیں جاننے والے لوگ موجود نہیں تھے۔پچھلی جنگ ختم ہوئی تو مختلف ممالک کے لوگ انگلینڈ آگئے۔میں نے مولوی جلال الدین صاحب شمس کو لکھا کہ یہ موقع ہے، مختلف زبانیں جاننے والے انگلستان میں موجود ہیں آپ ان سے قرآن کریم کا ترجمہ کروالیں۔چنانچہ ڈچ ، جرمن ، ہسپانوی، اطالوی، فرانسیسی اور پرتگالی زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کروایا گیا۔بعد میں ہمارے مبلغ ان ممالک میں گئے اور اُنہوں نے وہاں کی زبانیں سیکھیں اور اس کے بعد اُنہوں نے ان تراجم کی اصلاح کی۔ابھی تک ہمیں روسی زبان کا