خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 597
خطابات شوری جلد سوم ۵۹۷ رت ۱۹۵۶ء منسوب کر دیا۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے جو اُس وقت لنڈن میں امام تھے اُسے توجہ دلائی کہ یہ مشن تو ہماری جماعت کا قائم کردہ ہے۔اس پر اُس نے تحریر کیا کہ میں تحقیق کروں گا اور اگر اس تحقیق کے نتیجہ میں اطلاع غلط ثابت ہوئی تو میں اس کی تردید کر دوں گا۔چنانچہ اُس نے نئے ایڈیشن میں اس کی اصلاح کر دی ہے اور لکھا ہے کہ میں نے اس مشن کو ایک غلط اطلاع کی بناء پر پہلے لاہور والوں کی طرف منسوب کر دیا تھا اب تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ میری وہ اطلاع غلط تھی، یہ مشن در حقیقت قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔غرض پہلے لوگ ہماری باتوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے لیکن اب ایسا تغیر واقع ہوا ہے کہ وہ ہماری باتوں کی پرواہ کرنے لگ گئے ہیں۔میں پچھلے سال انگلینڈ گیا۔میں بیمار تھا اس لئے عام لوگوں سے تو ملاقات نہیں کر سکتا تھا لیکن پھر بھی بعض لوگ ملنے آجاتے تھے۔چنانچہ ایک دن ایک شخص مجھے ملنے کے لئے آیا وہ ایک ایسے رسالہ کا ایڈیٹر تھا جس کی اشاعت ۸۰ لاکھ کی ہے۔اُس نے میرے سامنے خود یہ تجویز پیش کی کہ فلسطین میں آپ کی جماعت پر سختی ہوئی ہے آپ اُس کی تفصیل مجھے بتائیں۔یو این او میں میرے بعض واقف آدمی ہیں، میں اُنہیں کہہ کر وہاں سوال اُٹھوا دوں گا۔اُس نے یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کا لڑکا لنڈن میں رہے گا۔آپ اُسے کہیں کہ وہ مجھے ملتا رہے، میں اُسے یہاں کی اچھی سوسائٹی سے ملاؤں گا۔غرض خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا تغیر واقع ہوا ہے کہ لوگوں کی توجہ اور رجحان خود بخود احمدیت کی طرف ہو رہا ہے اور انہیں احساس ہو رہا ہے کہ احمدیت ایک دن غالب آئے گی۔پہلے یہ بات ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آتی تھی لیکن اب یہ خیال ایسی خواب بن گیا ہے جو انہیں بار بار آ رہی ہے اور اُن کے نفوس محسوس کر رہے ہیں کہ احمدیت کا غلبہ یقینی بات ہے۔انگریزی میں ایک ضرب المثل - ہے۔Coming events cost their shadow before یعنی آنے والے حادثات کا ان کے وقوع سے پہلے پتہ لگ جاتا ہے۔اب ہر قوم میں احمدیت کی طرف توجہ ہو رہی ہے۔تراجم قرآن کی اہمیت ہمارے کارناموں میں سے سب سے زیادہ اہم کارنامہ قرآن کریم کا متعدد زبانوں میں ترجمہ کرنا ہے۔جماعت کو