خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 596

خطابات شوری جلد سوم ۵۹۶ رت ۱۹۵۶ء دوسرا دن مجلس مشاورت قرآن مجید کا دیگر زبانوں میں ترجمہ نہایت اہم کام ہے کے دوسرے دن ۳۰ / مارچ ۱۹۵۶ء کو حضور نے احباب جماعت کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- ”سب سے بڑی چیز جس کی کسی دینی سلسلہ کو ضرورت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اس میں خلافت اور تنظیم ہمیشہ کے لئے قائم رہے، اللہ تعالیٰ سے محبت قائم رہے۔احمدیت کی طرف ہر قوم کی توجہ اگر یہ سب باتیں قائم رہیں تو دنیا کی فتح میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔میں تو بیمار ہوں اور مجھے بعض دفعہ اپنی زندگی کا ایک ایک دن دو بھر معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے یہ بات نظر آ رہی ہے اور ہم میں سے جو لوگ زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ چند سالوں کے اندر اندر دُنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہوگا اور احمدیت ایک نمایاں حیثیت اختیار کرلے گی بلکہ اب بھی احمدیت نے اتنی اہمیت حاصل کر لی ہے کہ امریکہ کے ایک رسالہ نے جس کی اشاعت دو کروڑ کے قریب ہے ایک زبر دست مضمون لکھا ہے کہ مشرقی افریقہ میں احمدیوں نے ، اسلام کی اس طرح تبلیغ کی ہے کہ اس کے مقابلہ میں عیسائیت شکست کھا کر رہ گئی ہے۔انگلستان کے ایک اور مشہور شخص نے بھی لکھا ہے کہ مشرقی افریقہ میں اب عیسائیت کی اشاعت کے لئے کوئی موقع نہیں رہا اور احمدیوں نے اس کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔یہ احمدیت کی صداقت کا ایک بڑا نشان ہے۔پھر جنوبی افریقہ میں ہمارے خلاف ایک شخص نے مضمون لکھا ہے جب ہماری جماعت نے پروٹسٹ کیا تو اُس نے معذرت کی اور کہا کہ مجھے لوگوں نے دھوکا دیا تھا آئندہ میں ایسا کوئی مضمون شائع نہیں کروں گا۔اب دیکھو یہ کتنا عظیم تغیر ہے جو احمدیت کے متعلق لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے کہ مخالف اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔پچھلے دو سال کی بات ہے کہ ایک شخص نے ایک کتاب لکھی اور اس میں ہمارے امریکہ کے مشن کے کام کو اُس نے غیر مبائعین کی طرف