خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 591
خطابات شوری جلد سوم ۵۹۱ رت ۱۹۵۶ء پیدا نہ ہو۔پس دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رنگ میں سوچنے اور کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر وہ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی صحیح رنگ میں کام کرنے اور دیانتداری سے روپیہ خرچ کرنے کی توفیق دیتا چلا جائے۔تاہم اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو ہو سکیں، اس کے بعد حضور نے احباب سمیت ہاتھ اُٹھا کر لمبی دُعا کروائی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- افتتاحی تقریر اب شوری کا ایجنڈا پیش ہوگا۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صد را منجمن احمد یہ اور تحریک جدید دونوں کے بجٹ ۲۵۔۲۵ لاکھ روپیہ تک پہنچ جائیں۔جب تک ان دونوں اداروں کے بجٹ ۲۵٬۲۵ لاکھ تک نہیں پہنچ جاتے اُس وقت تک نہ تو پاکستان میں صحیح طور پر کام ہوسکتا ہے اور نہ ہی بیرونی ممالک میں صحیح طور پر کام کیا جا سکتا ہے اور اگر کوشش کی جائے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں۔میں نے بتایا تھا کہ اگر باہر کے ممالک کے زمیندار زیادہ آمد پیدا کرتے ہیں تو کیوں ہمارے زمیندار بھی اپنے بچوں کے لئے نہیں، اپنی آسائش اور سہولت کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خاطر زیادہ آمد پیدا نہ کریں۔اس وقت ہماری جماعت کے پاس کم سے کم ایک لاکھ ایکٹر زمین ہے۔اگر ہماری زمین کی سالانہ آمد فی ایکٹر سات سو روپیہ تک پہنچ جائے جو ہالینڈ کی آمد کا چوتھا حصہ اور اٹلی کی آمد سے نصف سے بھی کم ہے تو جماعت کی گل آمد سات کروڑ روپیہ بن جاتی ہے۔اس سات کروڑ میں سے ایک آنہ فی روپیہ کے حساب سے بھی احمدی زمیندار چندہ دیں تو ۴۴ لاکھ کے قریب روپیہ آ جاتا ہے اور اگر سلسلہ کی زمینوں کی آمد کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ رقم بڑی آسانی سے پچاس لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔اب تم اندازہ لگا لو کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ بجٹ پچاس لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے تو ہمارے پھیلنے کی رفتارکتنی تیز ہو جائے گی۔احمدیت کی ترقی کی ترو اس وقت باہر سے جو خیر میں آرہی ہیں وہ خدا تعالی کے فضل سے بڑی خوش کن اور حوصلہ افزا ہیں چنانچہ جب بھی ڈاک