خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 588
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۸ رت ۱۹۵۶ء بیماری کی وجہ سے چونکہ میرا حافظہ کمزور ہو گیا ہے اس لئے جو بلی فنڈ کے خرچ کی سکیم مجھے پوری طرح یاد نہیں رہی۔صرف اتنا یاد ہے کہ وہ روپیہ صدر انجمن احمدیہ کے پاس تھا اور وہی اس کے خرچ کرنے کی ذمہ دار تھی لیکن چونکہ روپیہ میرے نام پر جمع ہے اس لئے وہ مجھے سے چیک پر دستخط کرا لیتے ہیں۔بہر حال میں یہ ذکر کر رہا تھا کہ خلافت جوبلی کے جلسہ پر میر محمد اسحاق صاحب کے ذریعہ جماعت نے دو لاکھ ستر ہزار روپیہ مجھے دیا اور میں نے کہا کہ میں اس صورت میں یہ روپیہ قبول کروں گا کہ میں اسے جماعت کے سپر د کر دوں اور وہی اسے خرچ کرے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے طور پر بھی صاحب دولت بنایا ہے۔میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا تھا کہ سندھ میں میرے پیر لگے ہیں۔اس پر میں نے صدر انجمن احمد یہ اور بعض دوسرے دوستوں کو جن میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے ،تحریک کی کہ ہم ایک کمیٹی بنالیں اور اس طرح سندھ میں زمینیں خریدیں چنانچہ ہم نے وہاں زمینیں خرید لیں۔چونکہ اُس وقت جو لوگ زمینوں پر کام کرنے کے لئے مقرر کئے گئے تھے، انہیں تجربہ نہیں تھا اس لئے لوگوں کو خسارہ ہونا شروع ہوا اور حصہ داروں نے تنگ آکر اپنے حصے بیچنے شروع کر دیئے۔ایک دن ایک حصہ دار میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آپ ہی زمین لے لیں، میں اس سے تنگ آ گیا ہوں۔مجھے یقین تھا کہ اس زمین میں برکت ہو گی اس لئے میں نے وہ زمین لے لی۔پھر دوسرا حصہ دار آیا، پھر تیسرا آیا، پھر چوتھا آیا اور اُنہوں نے اپنی زمینیں میرے سپرد کر دیں اور کہا کہ ہم نفع نہیں مانگتے جتنی رقم ہم نے خرچ کی ہے وہ ہمیں دے دیں اور ساری زمین سنبھال لیں۔میرے پاس روپیہ نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی سامان کر دیا۔ایک دوست ملا زمت سے فارغ ہو کر آئے اور اُنہوں نے مجھے کہا کہ ہمارے محکمہ میں پنشن نہیں ملتی ، پراویڈنٹ فنڈ ملتا ہے۔مجھے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجوٹی کے طور پر کئی ہزار روپیہ ملا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ عرصہ کے لئے اسے استعمال کر لیں۔میں نے کہا میں تو آہستہ آہستہ روپیہ واپس کر سکوں گا۔اُنہوں نے کہا مجھے منظور ہے۔چنانچہ میں نے وہ رقم لے لی اور زمین خرید لی۔اس کے بعد میں نے زمینوں پر کام کرنے والے عملہ میں تبدیلی شروع کی اور صدر انجمن احمد یہ کو کہا کہ۔