خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 44

خطابات شوری جلد سوم ۴۴ ३ مشاورت ۱۹۴۴ء کے لحاظ سے یہ کام بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن اگر ہم ۲۵ لاکھ روپیہ کا پہلا ریز رو فنڈ قائم کر دیں، اس کے بعد دوسرا ریز رو فنڈ پچاس لاکھ روپیہ کا قائم کر دیں، پھر تیسرا ریز روفنڈ ۷۵ لاکھ کا قائم کر دیں تو چوتھا ریز روفنڈ ایک کروڑ روپیہ کا قائم ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ہی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مالی وسعت کے بعض اور سامان بھی پیدا کر دے گا اور اس طرح جلد ہی یہ آمد دو کروڑ روپیہ تک پہنچ جائے گی اور ہم پانچ ہزار مبلغ رکھ کر اُن کے اخراجات کو آسانی سے پورا کر سکیں گے۔عیسائیوں کو دیکھو وہ شرک کی اشاعت کے لئے پانچ کروڑ پونڈ سالانہ مشنری سوسائٹیوں پر خرچ کرتے ہیں۔پانچ کروڑ پونڈ کے معنے ہیں ۷۵ کروڑ روپیہ سالانہ۔اگر وہ ایک جھوٹے خدا کومنوانے کے لئے ۷۵ کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کر سکتے ہیں تو کیا ہم سچے خدا کے نام کو بلند کرنے اور اس کے دین کو پھیلانے کے لئے دو کروڑ روپیہ سے پہلا تبلیغی قدم نہیں اُٹھا سکتے ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائی بہت مالدار ہیں اور حکومتیں ان کے قبضہ میں ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ سے زیادہ نفس کی قربانی کام دیا کرتی ہے مال تو کوئی چیز ہی نہیں۔جب انسان اپنے نفس کی قربانی خوشی سے پیش کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو مال کی قربانی اُس پر ذرا بھی گراں نہیں گزرتی۔لیکن وہ جو نفس کی قربانی میں کمزور ہوتے ہیں قربانی کا وقت آنے پر کچا دھاگا ثابت ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاتے ہیں۔حسین کامی جب قادیان میں آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس سے یہی فرمایا کہ ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں بعض ایسے کچے دھاگے ہیں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری کی سرشت ظاہر کرنے والے ہیں۔چنانچہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا تھا وہ بالکل صحیح اور درست تھا۔حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے مستقبل کو خراب کرنے والے اور اُسے تباہی و بربادی کے گڑھے میں گرانے والے یہی قوم کے کچے دھاگے ہوتے ہیں جو وقت پر ٹوٹ کر نفاق اور غداری کی سرشت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔اگر اس قسم کے منافق اور بُزدل اور کمزور ہمت لوگ جو غداری کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہوں قوم میں