خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 576
خطابات شوری جلد سوم ۵۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء صرف تین دن کے لئے یہاں آتی ہے۔ جماعت کو ان امور کا پتہ نہیں لگ سکتا ۔ مگر مجھے پتہ لگ جاتا ہے اور میں سزا دیتا ہوں تو اس کا نام ڈکٹیٹر شپ رکھ دیا جاتا ہے۔ آخر ان باتوں کی اصلاح کرنے کے لئے میرے ساتھ مدد کرنے والا بھی تو ہونا چاہئے ۔ یا ناظر صاحب اعلیٰ مدد کریں یا شوری سال میں بار بار منعقد ہو اور وہ ان امور کی تحقیقات کرلے جو جماعت سے چھپائے جاتے ہیں۔ شورای چارون شوری کے متعلق میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ چاردن کے لئے ہو۔ یہ چوتھا دن آخر میں زیادہ کیا جائے یا شروع میں اس کے متعلق یہ رائے دی گئی ہے کہ چھٹی کے دوسرے دن کی چھٹی لی جائے تو وہ دو چھٹیاں شمار ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اگر اتوار کے ساتھ سوموار کو ملایا جائے تو ملازمت پیشہ لوگوں کے لئے وقت ہوگی ۔ ان کی اتوار کی رخصت بھی شمار ہو جائے گی اس لئے بہتر ہے کہ جمعرات کا دن ساتھ ملایا جائے اس میں زیادہ آسانی ہوگی ۔ چنانچہ اگلے سال تین کی بجائے چار دن تک شوری ہوگی ۔ اتوار کو کام ختم کیا جائے گا۔ اس میں یہ فائدہ بھی ہو گا کہ بعض نمائندے اتوار کو یہاں سے روانہ ہو کر اپنے کام پر وقت پر پہنچ جائیں گے ۔ بہر حال میں نے بعض چیزیں شوری کے سامنے رکھ دی ہیں ان کی اصلاح اسی طرح ہو سکتی ہے کہ جماعت کے اجلاس بار بار ہوں۔ ناظر صاحب اعلیٰ مجرموں کی معافی کی طرف زیادہ توجہ نہ کریں ۔ معافی اُس وقت بہتر ہوتی ہے جب زیادہ خرابی پیدا نہ ہو ۔ جب خرابی زیادہ ہو تو سزا بہتر ہوتی ہے ۔ موجودہ ناظر صاحب اعلیٰ اگر تعاون کریں گے تو یہ کام آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ میں اُنہیں اسی غرض سے یہاں لایا ہوں تا وہ مجھ سے تعاون کریں ۔ باقی اصلاح کا یہ طریق درست نہیں کہ پرانے لوگوں کو فوراً نکال دیا جائے ۔ اصل علاج یہ ہے کہ باہر سے آدمی آئیں اور کام کو سنبھالیں ۔ جب نئے آدمی کام سنبھال لیں تو پرانے کارکنوں کو فارغ کر دیا جائے ۔ موجودہ ناظر بھاگ دوڑ کا کام نہیں کر سکتے ۔ مثلاً مولوی محمد دین صاحب ہیں ان کی عمر ۷۵ سال سے کم نہیں جب ہم بچے تھے تو وہ کالج میں پڑھتے تھے۔ اب ۷۵ سال کا ایک بوڑھا شخص نوجوانوں کی طرح کس طرح کام کر سکتا ہے۔ اچھے پنشنر باہر سے آجائیں اور وہ کام کرنے لگیں تو پرانے آدمی فارغ کر دیئے جائیں۔