خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 569
خطابات شوری جلد سوم ۵۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کیا تھا۔میں وہاں گیا تو نہیں لیکن میں نے صدر انجمن احمدیہ سے کہ دیا تھا کہ وہ عملہ کے لئے دس ہزار روپیہ علیحدہ کر کے رکھ دے۔اب دس ہزار روپے اس غرض کے لئے جمع ہیں۔اگر میں مشرقی بنگال گیا تو یہ رقم کام آجائے گی۔اسی طرح کراچی میں ایک عمارت تیار کرنے کا سوال پیش آیا تو میں نے تحریک جدید سے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ اس کیلئے رقم جمع کر دے۔اس طرح تم اپنے عملہ کے لئے روپیہ دے دو اور اُسے علیحدہ رکھو۔جب ضرورت پیش آئی میں لے لوں گا۔اب میری ایسی حالت نہیں کہ میں لمبا سفر کر سکوں۔امریکہ بحری رستہ سے جاؤں تو دو ماہ جانے میں لگیں گے اور دو ماہ آنے میں لگیں گے اور تین ماہ تک وہاں قیام کرنا ہو گا۔ہاں ہوائی جہاز پر سفر کیا جائے تو وقت کم لگے گا لیکن ہوائی جہاز پر سفر کرنے کے میں قابل نہیں۔پس تم شوق سے چندہ جمع کر ولیکن اگر صرف اتنا روپیہ ہی دینا ہے تو تم وعدہ کرو کہ اس عرصہ میں تم مجھے خط نہیں لکھو گے۔اگر تم اس قسم کا وعدہ کر لو تو چاہے کتنی ذلت ہو میں انتظام کرلوں گا ورنہ تم مجھ پر احسان کیوں جتاتے ہو۔یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کسی کے رشتہ دار کی شادی تھی۔رشتہ دار ایسے مواقع پر تحفہ دیا کرتے ہیں۔ایک عورت بخیل بھی تھی لیکن اپنی شان دکھانے کی بھی عادی تھی۔اُس نے اس موقع پر ایک روپیہ دے دیا۔اُس کی بھا وجہ امیر تھی اس نے ہیں روپے دیئے۔جب اُس بخیل عورت سے سوال کیا جاتا کہ تم نے کیا دیا ہے؟ تو وہ یہ جواب دیتی میں اور بھابی اکیس۔اس طرح تم یہ بات نہ کرو کہ خرچ تو آدھا دو اور مجھ سے کہو کہ میں اُسے قبول کرلوں ، میں عملہ کا خرچ کہاں سے لاؤں گا ؟ میں سمجھتا ہوں کہ شاید اس کی محرک میری وہ تحریک تھی جو مجلس کے پہلے اجلاس میں میں نے افتتاحی تقریر میں کی تھی۔میری اس سے یہ غرض نہیں تھی کہ میں ربوہ سے باہر علاج کیلئے جانا چاہتا ہوں۔میں تو کہتا ہوں کہ میں علاج کے لئے باہر نہیں جا سکتا۔اس تحریک سے میری یہ غرض تھی کہ ربوہ اور جماعت کے لئے حفاظت کا انتظام کیا جائے۔دوسرے دشمنوں کے اعتراضات کا جواب دیا جائے۔تیسرے دنیا کے سامنے اپنا نمونہ پیش کیا جائے۔اگر جماعت یہ ثابت کر دے کہ تمہارا مارا جانا ملک اور قوم کے لئے نقصان دہ ہے تو تمہارے او پر ہاتھ اُٹھانے پر ہر طرف شور پڑ جائے گا۔اب تو یہ حالت ہے کہ جب مغربی پاکستان