خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 567
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء میں جب انگلینڈ گیا تو جماعت کے افراد کو یہ شکایت تھی کہ انہیں خطوط کا جواب نہیں ملتا تھا۔اس وقت عملہ میں دس آدمی کام کر رہے ہیں۔تب بھی دوست شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے خطوط کا جواب نہیں دیا جاتا۔باہر گیا تو اور شکوہ ہو گا۔آپ لوگوں نے خطوط بھی لکھنے ہیں ، تاریں بھی دینی ہیں۔اُن کے جوابات کے لئے عملہ کی ضرورت ہے۔پھر اگر میں باہر گیا تو ہر طبقہ کے لوگ میرے پاس آئیں گے۔مجھ سے مسائل دریافت کریں گے۔جب میں انگلستان گیا تھا تو اُس وقت ہر طبقہ کے لوگ میرے پاس آئے تھے۔میرے پاس آنے والوں میں پروفیسر بھی تھے۔لارڈ بھی تھے ، سیاست دان بھی تھے اور مستشرقین بھی تھے اور مختلف مسائل پر وہ مجھ سے باتیں کرتے تھے اس لئے اگر میں امریکہ گیا تو میرے ساتھ ایک دو مبلغ بھی ہونے چاہئیں۔جب میں انگلستان گیا تھا اُس وقت میرے ساتھ ۱۳ اشخاص تھے۔ایک ڈاکٹر تھا۔دو مبلغ تھے اور ایک آدمی خادم کے طور پر تھا۔دفتر کے عملہ کے تین آدمی بھی میرے ساتھ تھے اور اُس وقت ۵۶۰۰۰ روپے صرف کرایہ لگا تھا۔اس طرح مکان کا کرایہ اور انگلستان میں قیام کے اخراجات شامل نہیں تھے۔اب تم ان لوگوں کے کرایہ کا اندازہ کر لو اور پھر مثلاً میں امریکہ میں تین ماہ تک قیام کروں تو ان دنوں کے اخراجات کا بھی اندازہ لگا لو۔ہمارا مبلغ اس وقت ایک کمرہ میں رہتا ہے اور اس کمرہ کا کرایہ ۲۹۰۰ ڈالر ہے۔اب اگر میرے ساتھ عملہ جائے گا تو ان کے لئے عارضی طور پر مکان کا انتظام کیا جائے گا۔انگلستان میں جو مکان لیا گیا تھا اُس کا کرایہ ۱۵۰۰ پونڈ تھا۔گویا ۲۲،۲۱ ہزار روپیہ یہ ہو گیا۔پھر وہاں ایک ادنیٰ مزدور کی مزدوری ۱۲۰ ڈالر ماہوار مقرر ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ایک سو ڈالر فی فرد ماہوار خرچ کا اندازہ لگایا جائے تو آٹھ ہزار ڈالر یہ ہوئے اور روپے کے حساب سے تمہیں ہزار روپیہ بنا۔گویا ایک لاکھ دس ہزار روپیہ تو صرف تمہارے عملہ پر خرچ ہو گا اور تم یہ ریزولیوشن پاس کر رہے ہو کہ خلیفہ وقت کو ۶۰ ہزار روپیہ دے دو تا وہ امریکہ جا کر علاج کرائے۔میں جب انگلستان گیا تھا اُس وقت بھی میں نے اپنا ذاتی خرچ نہیں لیا تھا اور اب امریکہ جاؤں گا تب بھی اپنا ذاتی خرچ نہیں لوں گا بلکہ انگلستان کے تجربہ کے بعد تو میں کبھی نہیں لوں گا۔اس وقت بھی جماعت نے کہا تھا ہم خرچ دیں گے لیکن میں نے انکار کیا تھا۔اُس وقت عملہ کے اخراجات کے سلسلہ میں جماعت کی