خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 562

خطابات شوری جلد سوم ۵۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء نہیں دینا چاہئے۔و قادیان میں ایک دفعہ اسی قسم کا واقعہ ہوگا۔میں دار احمد میں تھا کہ میرے ایک لڑکے نے مجھے اطلاع دی کہ ایک نو جوان آیا ہے اور وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔میں باہر آیا لیکن ابھی رستہ میں ہی تھا کہ باہر شور پڑ گیا۔باہر آ کر دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ کوئی نو جوان تھا ، اُس کے پاس چھرا تھا اور وہ حملہ کی نیت سے یہاں آیا تھا۔اب اُسے پکڑ لیا گیا ہے۔مجھے عبدالاحد خان پٹھان نے بتایا کہ یہ نو جوان بچوں کے پاس کھڑا تھا اور اُن سے کہہ رہا تھا کہ میں مرزا صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔بات کرتے وقت اُس نے اپنی ٹانگ کو حرکت دی اور یہ حرکت اس قسم کی تھی کہ جیسے پٹھان اُس وقت کیا کرتے ہیں جب اُنہوں نے پھر اچھپایا ہوا ہو۔میں نے اُسے اس قسم کی حرکت کرتے دیکھا تو میں نے اُسے پکڑ لیا اور ٹولنے پر واقع میں اندر سے چُھر انکل آیا۔لیکن یہاں وہ نو جوان آتا ہے، مسجد میں آکر بیٹھتا ہے، اس کی ظاہری حالت اُسے مشکوک بتاتی ہے پھر جب نماز پڑھتا ہے تو اُس کی جیب میں سے چا تو نیچے گر جاتا ہے اور وہ اُسے اُٹھا کر جیب میں دوبارہ ڈال لیتا ہے لیکن اُسے کسی نے پکڑا نہیں۔صحابہ کا کردار ایک دفعہ مکہ کے قریب دشمن نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے میں ایک خیمہ میں بیٹھے تھے کہ کھٹ کھٹ کی آواز آئی۔آپ نے دریافت فرمایا کون ہے؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں فلاں شخص ہوں۔آپ نے فرمایا کیا بات ہے؟ تو اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے خیال کیا کہ مکہ والوں نے مسلمانوں سے لڑائی شروع کر دی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کفار مدینہ پر بھی حملہ کر دیں۔میں یہاں حاضر ہوا ہوں تا آپ کی خدمت میں درخواست کروں کہ مدینہ کی حفاظت کے لئے میری قوم حاضر ہے اب دیکھو مکہ میں لڑائی ہو رہی ہے لیکن صحابہ مدینہ میں پہرہ کا انتظام کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر جب صحابہ عدل وانصاف پر آتے تھے وہ ہمیشہ اپنی چیز کی قیمت گرا دیتے تھے بڑھاتے نہیں تھے۔اور جب دوسروں کے حقوق کا سوال آتا تھا تو وہ اپنی عورتوں کو طلاق دے کر کہتے تھے کہ تم ان میں سے جس سے چاہو شادی کر لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیدادیں آتی ہیں تو آپ انصار کو بلا کر