خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 561

خطابات شوری جلد سوم ۵۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کے لئے اس طرح بیٹھ جاتے جیسے کوئی پیشاب کرنے بیٹھتا ہے۔ایک صحابی نے دیکھا کہ آپ ہر دفعہ اس جگہ جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے بظاہر پیشاب کرنے کی غرض سے وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں تو اُنہوں نے دریافت کیا کہ آپ اُس جگہ کیوں جاتے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا میں ہمیشہ اس بات کو چُھپا تا رہا ہوں اور میری خواہش تھی کہ میرا یہ راز لوگوں کو معلوم نہ ہو لیکن چونکہ آپ نے اب پوچھ لیا ہے اس لئے بتا دیتا ہوں۔واقعہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ بیٹھ کر پیشاب کیا تھا۔میں نے چاہا کہ چلو آپ کے اس کام کی بھی نقل ہو جائے۔پس جماعت کے افراد کو کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی قربانی کا معیار بلند ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ذہنیت میں تبدیلی پیدا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذہنیت کو دیکھو آپ کس قدر ہوشیار واقع ہوئے تھے۔ایک صحابی روایت فرماتے ہیں کہ ایک رات خطرہ کا الارم ہوا۔سب لوگ جاگ اُٹھے اور ایک جگہ پر اکٹھے ہو کر یہ تجویز کرنے لگے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اطلاع دے کر ہدایات لی جائیں۔اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سوار آ رہا ہے۔جب لوگ بڑھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سوار خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔آپ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کوئی فکر کی بات نہیں تم سب گھروں میں واپس چلے جاؤ۔لے اور سو جاؤ۔کچھ بدوی لوگ اونٹوں کولڑا رہے تھے میں نے خیال کیا کہ شاید دشمن آ گیا ہے چنانچہ میں اُس طرف چلا گیا جدھر سے آواز آ رہی تھی تا صحیح خبر لاسکوں۔یہ ذہنیت تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے اندر پائی جاتی تھی۔اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت کی یہ حالت ہے کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب نے مجھے بتایا کہ محراب کے سامنے جولوگ بیٹھے تھے میں نے جب اُن سے بعض باتیں دریافت کیں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ شخص مشکوک حالت میں تھا۔وہ کمبل اوڑھے ہوئے تھا اور اُس کا منہ کمبل سے ڈھکا ہوا تھا۔جب وہ سجدہ میں گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی چیز اُس کی جیب سے گر رہی ہے لیکن اس شخص کو یہ احساس نہ ہوا کہ اُسے احتیاطی تدبیر کرنی چاہئے۔اُس نے یہ خیال کیا کہ یہ صدر انجمن احمد یہ کا کام ہے مجھے اس کے کام میں دخل