خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 560
خطابات شوری جلد سوم ۵۶۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء سوال بعد میں پیدا ہو گا، عمل پہلے ہوگا۔ یہ پس صحابہ میں یہ روح تھی کہ وہ احکام پر فوری طور پر عمل کرتے تھے اور یہ نہیں سوچتے تھے کہ آیا وہ عقلی معیار پر پورا اُترتے ہیں یا نہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ابھی یہ روح نہیں پائی جاتی ۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ موقع پر لوگ قربانی بھی کر جاتے ہیں اور پھر معمولی معمولی باتوں پر اُن کا قدم رُک بھی جاتا ہے۔ اس بیماری کے دنوں میں ہی ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اُس نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے زندگی وقف کی ہوئی ہے۔ اُس نے داڑھی پر اُسترا بڑے زور سے استعمال کیا ہوا تھا۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ اس نوجوان نے زندگی وقف کی ہوئی ہے وہ زندگی کھوٹی ہی سہی، چاہے اُس نے پوری طرح زندگی وقف نہ کی ہو تا ہم یہ ایک سال بھی وقف پر قائم رہ جائے تو ایک سال اپنی عمر کا دے دینا بھی آسان نہیں لیکن اِسے یہ احساس نہیں کہ وقف کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشابہت کی بھی ضرورت ہے لیکن اس طرف توجہ نہ ہونے کی وجہ سے اُس نے پرواہ نہیں کی ۔ پس میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں قربانی تو ہے لیکن یہ احساس نہیں کہ وہ قربانی کس رنگ میں کرنی چاہئے اس لئے اس قربانی سے پوری طرح فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا ۔ ایک حج تھے جو احمدی تھے بعد میں اُنہیں ٹھو کر بھی لگی ۔ اُنہوں نے جب بیعت کی تو اس کے بعد ایک دفعہ مجھے ملنے کے لئے آئے۔ میں اُنہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ میرا جوڑا پہن کر آ گئے ہیں ۔ شلوار ، کوٹ اور میض سب یوں معلوم ہوتے تھے کہ وہ میرے ہی ہیں ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ ہمیشہ اسی قسم کا لباس پہنتے ہیں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا جب میں نے بیعت کی تو میں نے خیال کیا کہ اب ظاہری طور بھی آپ کا رنگ اختیار کرنا چاہئے ۔ چنانچہ میں نے ایک احمدی سے پوچھا کہ آپ کا ۔ لباس کس قسم کا ہوتا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ آپ کا لباس اِس اِس قسم کا ہوتا ہے تو میں نے اسی قسم کا لباس بنوا لیا۔ انسان کی روحانی طور پر بھی اس قسم کی کوشش کی ضرورت ہے۔ ضرت عبداللہ بن عمر کے متعلق روایت آتی ہے کہ جب آپ حج کے لے جاتے تو ایک جگہ پر پہنچ کر آپ رستہ سے ہٹ کر کچھ دور چلے جاتے اور وہاں کچھ دیر