خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 559

خطابات شوری جلد سوم ۵۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء بعض اوقات خدا تعالیٰ نہیں ملتا۔خدا تعالیٰ کو پانے کی خاطر اپنی ذہنیت کو بدلنا ضروری ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے وہ ہر کام کو بغیر یہ سوچنے کے کہ یہ عقل کے معیار پر پورا اتر نا ہے یا نہیں کرتا چلا جاتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں وعظ فرما رہے تھے۔بعض صحابہ مجلس کے کناروں پر کھڑے تھے ، آپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا بیٹھ جاؤ۔اُس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پاس کی گلی میں سے گزر رہے تھے۔آپ کے کان میں یہ آواز پڑی تو آپ وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف اُنہوں نے گھٹتے ہوئے آنا شروع کر دیا۔کسی شخص نے آپ سے کہا یہ کیا احمقانہ حرکت ہے کہ تم گلی میں اس طرح بیٹھ کر چل رہے ہو۔آپ نے فرمایا میرے کان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ آواز پڑی تھی کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔اس پر اس شخص نے کہا کیا تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم اُن لوگوں کو دیا ہے جو مسجد میں آپ کے سامنے کھڑے تھے ؟ آپ نے فرمایا یہ درست ہے لیکن موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔پتہ نہیں میں مسجد میں پہنچنے سے قبل ہی مر جاؤں اور اس حکم پر عمل نہ کر سکوں تو خدا تعالیٰ کے سامنے میں کیا جواب دوں گا ہے کیا خدا تعالیٰ کے سامنے میں یہ کہوں گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حکم میں نے نہیں مانا تھا اس لئے جو نہی آواز میرے کان میں پڑی تو میں بیٹھ گیا۔چاہے یہ بیوقوفی کا کام قرار دے دیا جائے لیکن اگر مسجد میں جانے سے قبل مجھے موت آگئی تو خدا تعالیٰ کے سامنے میں یہ تو کہہ سکوں گا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر حکم جو میرے کانوں میں پڑا مانا ہے۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کے حرام ہونے کے متعلق اعلان فرمایا تو اُس وقت کچھ صحابہ ایک شادی کے موقع پر جمع تھے۔ایک مٹکا باقی تھا جس کو وہ شروع کرنے ہی والے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز آئی کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔اس پر اُن میں سے ایک نے کہا سنو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے شراب حرام ہو گئی ہے۔دوسرے نے کہا باہر نکل کر ذرا تصدیق کر لو لیکن جس صحابی کو اُس نے یہ بات کہی تھی اُس نے ڈنڈا مٹکے پر مارا اور اُسے پھوڑ کر کہا خدا کی قسم! میں پہلے مٹکا توڑوں گا اور پھر تحقیقات کروں گا۔جب میرے کان میں آواز پڑ گئی تو تحقیقات کا