خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 555
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء سے کرو گے اور اس کے بعد بھی کوئی کسر رہ جائے گی تو اُس کو میں پورا کروں گا یعنی اگر تم خود رخنہ پیدا کرو گے تو میں اُس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ہاں اگر تمہاری پوری جدوجہد کرنے کے باوجود کوئی رخنہ باقی رہ گیا تو میں اُس کو پورا کروں گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی یہی ہوگا ، حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی یہی ہوگا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں بھی یہی ہوگا ، آپ کو یہودیوں نے کھانے میں زہر ملا کر دے دیا۔بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ان کی دعوت کو منظور کیوں کر لیا لیکن آپ کی شان یہی تھی کہ آپ ان کی دعوت قبول کر لیتے۔یہ صحابہ کا کام تھا کہ وہ کھانے کو پہلے چکھ کر دیکھ لیتے اور اطمینان کر لیتے۔اب مجھے پر قاتلانہ حملہ ہوا تو بعض دوستوں نے لکھنا شروع کر دیا کہ خلیفہ وقت کو نماز کے لئے مسجد میں نہیں آنا چاہئے۔اسی طرح ملاقات کا سلسلہ بھی بند کر دینا چاہئے۔میں نے کہا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ خلیفہ وقت کو کسی منارہ پر باندھ دیا جائے اور جماعت اپنا فرض ادا نہ کرے۔جب تک خلافت رہے گی خلیفہ مسجد میں نماز پڑھانے ضرور جائے گا، وہ ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، چاہے دشمن اُس پر حملہ کرے یا نہ کرے۔اسی طرح وہ اپنے فرائض بھی بجالائے گا آگے جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہاں کوئی مشکوک آدمی تو موجود نہیں۔رسول کریم ع کی الہی حفاظت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہودیوں کی دعوت کو منظور کر لیا تھا اور آپ کی شان یہی تھی کہ اس دعوت کو منظور فرما لیتے۔صحابہ کا یہ فرض تھا کہ وہ حفاظت کے پیش نظر کھانا چکھ لیتے لیکن اُن سے یہ غلطی سرزد ہو گئی اُنہوں نے کھانا چکھا نہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھا لیا۔آپ کو الہاماً پتہ لگ گیا کہ اس کھانے میں زہر ملا ہوا ہے اور آپ نے لقمہ منہ سے نکال کر پھینک دیا تھا لیکن غالباً حضرت عائشہ کی یہ روایت ہے کہ وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ یہودیوں نے کھانے میں جو زہر کھلایا تھا اُس کا اثر اُس وقت تو نہیں ہو الیکن اب جسم میں اُس کا اثر معلوم ہوتا ہے یعنی اُس وقت تو آپ بچ گئے لیکن اس زہر کا اعصاب پر ایسا اثر ہوا کہ بڑھاپے میں جا کر وہ محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح ایک اور واقعہ آتا ہے آپ ایک جنگ سے واپس آ رہے تھے کہ رستہ میں