خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 554
خطابات شوری جلد سوم ۵۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء کمزور ہوئے اور ادھر مودودی صاحب نے اعلان کر دیا کہ ہم اس کے خلاف ہیں اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ ہم ہر اس شخص سے ملنے کے لئے تیار ہیں جو احمد یوں کو اقلیت قرار دے دے۔گویا ہر تغییر جو ملک میں پیدا ہوتا ہے اُسے ہماری مخالفت کا ایک ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔احمدی پاکستان کے باشندے ہیں اور نہ صرف پاکستان کے باشندے ہیں بلکہ پاکستان کے بنانے والوں میں سے ہیں لیکن وہی ملک جس کے متعلق ہم یہ سمجھتے ہیں اور جائز طور پر سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری کوششوں سے بنا ہے اگر چہ ایک وقت میں ہمارے ذہن میں بھی اس کی وہ شکل نہیں تھی جو اب ہے لیکن مسلم لیگ کی ہر تحریک میں جو اس کے حصول کے لئے کی گئی ہم نے حصہ لیا اور اُسے مدد دی۔جو لوگ ہمارے دشمن ہیں اور اُنہوں نے ملک کے بنانے میں عملی طور پر کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ اس کی مخالفت میں لگے رہے ہیں آج مسلم لیگ سے ساز باز کر رہے ہیں کہ احمدیوں کو پاکستان میں اقلیت قرار دے دیا جائے۔ایسے وقت میں احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ جو کام بھی کریں ہوشیار ہو کر کریں۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ ہی ہر کام کرتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ عملی طور پر یہ نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اتر کر یہ کہے کہ تم لحاف اوڑھ کر چار پائی پر لیٹے رہو میں تمہاری جگہ کام کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تم اس باغ میں رہو اور اس کے پھل کھاؤ لیکن فلاں دروازہ سے چوکنا ر ہیں۔اگر اس دروازہ سے شیطان تم پر حملہ آور ہو گیا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔پھر جب شیطان نے حملہ کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ یہ میری غلطی تھی ، میں نے تمہیں کیوں نہ بچایا بلکہ اُس نے کہا میں نے تمہیں باغ دیا تھا، دودھ اور شہد کی نہریں عطا کی تھیں اور ہر قسم کی آسائش کا سامان مہیا کر دیا تھا لیکن تم اتنے سُست نکلے کہ تم نے احتیاط کو بھی نظر انداز کر دیا اور شیطان کو اندر آنے دیا۔اب تم سے یہ شہد اور دودھ کی نہریں اور دوسرے آسائش کے سامان واپس لے لئے جاتے ہیں۔خلیفہ وقت کی حفاظت حضرت نوح علیہ السلام کو بھی خدا تعالیٰ نے نعمتیں دیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ میں تمہیں چیزیں بھی دوں گا اور پھر ان کی حفاظت بھی کروں گا۔حفاظت تمہیں خود کرنی ہو گی۔اگر تم نے سُستی اور غفلت سے کام لیا تو میں نے تمہارا ہاتھ نہیں بٹانا۔ہاں اگر تم کام کرو گے اور پوری محنت