خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 551

خطابات شوری جلد سوم ۵۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء اپنی بیماری کی کیفیت ہی بیان کرتا رہے تو صحت ہونی مشکل ہے۔صحت تب ہوتی ہے کہ جب مریض اپنی بیماری کو کھلانے کی کوشش کرے لیکن اس قسم کے سوالات کرنے والے بیماری کو بُھلانے نہیں دیتے۔اگر کوئی شخص اس قسم کے سوالات کے جواب میں یہ کہے کہ الْحَمْدُ لِله اب میں تندرست ہوں یا پہلے کی نسبت بہت افاقہ ہے تو وہ گویا سارا دن جھوٹ بولتا رہے اور اگر بیماری کو بیان کرتا رہے تو اس کا اچھا ہونا مشکل ہے۔پس اس صورت میں مریض کے لئے صرف دو صورتیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو وہ رات دن جھوٹ بولے اور یا اپنی بیماری کو سارا دن اور ساری رات بیان کرتا رہے۔حالانکہ ہر ایک شخص کے الگ کام ہیں۔جب ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ زخم اتنے عرصہ میں ٹھیک ہوگا تو دوسروں کو اب زیادہ سوالات کی کیا ضرورت ہے۔ڈاکٹروں کے معاملہ میں دخل دینا ایسا ہی ہے جس طرح آجکل کے مولویوں نے سیاست میں دخل دینا شروع کر دیا ہے۔اور سیاست میں دخل دے کر ملک کا ستیاناس کر دیا ہے۔ہمارے ایک مولوی تھے وہ مسجد میں بیٹھے رہتے اور جب میں مسجد میں آتا تو وہ مجھ سے معانقہ ضرور کرتے اور پھر پوچھتے آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ نزلہ اور بخار تو نہیں ہوا ؟ اور میں کہتا نہیں۔تو کہتے اچھا کھانسی تو نہیں ہوئی ؟ جواب ملتا نہیں۔پھر کہتے رات کو نیند تو آ جاتی ہے؟ میں کہتا ہاں۔پھر پوچھتے اچھا کام کے وقت تکلیف تو نہیں ہوتی ؟ اس پر پھر میں کہتا نہیں۔غرض اس قسم کے وہ کئی سوالات کر ڈالتے۔چار ماہ تو میں چپ رہا آخر میں نے کہا اس طرح کے سوالات دریافت نہ کیا کریں۔اگر ہر احمدی نے اس قسم کے سوالات پوچھنے شروع کر دیئے تو میں کیا کروں گا۔اس پر انہوں نے بُرا تو منایا لیکن پھر وہ چپ ہو گئے ورنہ اس سے قبل جتنی بیماریاں اُنہوں نے سنی ہوئی تھیں وہ ساری دُہرا دیا کرتے تھے اور انہیں بغیر گنوائے صبر نہیں آتا تھا۔یہ بے اصولے پن کی بات ہے اور میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔لوگوں نے ملاقات میں کوئی بات تو کرنی ہوتی ہے لیکن چونکہ علم نہیں ہوتا کہ کیا بات کی جائے اور چونکہ جماعت میں مسائل پوچھنے کا شوق نہیں رہا اس لئے وہ ملاقات کے موقع پر کوئی مفید بات نہیں پوچھ سکتے۔پس یہی چیز رہ گئی ہے کہ پوچھا جائے کیا حال ہے؟ بخار تو