خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 550
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ضروری ہے لیکن جب دوستوں نے سُنا کہ زخم مندمل ہو چکا ہے تو وہ پوری اُمید رکھنے لگ گئے کہ اب مجھے خلافت کا پورا بوجھ اُٹھا لینا چاہئے۔بعض نے تو اخلاص میں آ کر مجھے تنگ کرنا بھی شروع کر دیا۔کل ایک شخص نے جب وہ ملاقات کے لئے آیا تو میرے سر کو پکڑ کر خوب ہلایا جس کی وجہ سے مجھے درد شروع ہو گیا۔میرا سر ہلانے والے پرانے صحابی تھے۔اپنے خیال میں انہوں نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا لیکن اس محبت کے اظہار کی وجہ سے میری تکلیف بڑھ گئی۔اس پر مجھے حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کا بیان کردہ ایک قصہ یاد آ گیا۔آپ جب گھوڑے سے گرے اور سر میں شدید زخم آیا تو دوستوں نے آپ کی عیادت کے لئے آنا شروع کر دیا اور ہر دوست اپنے اخلاص میں چاہتا کہ وہ زخم دیکھے اور اس کے متعلق پوری معلومات حاصل کرے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میرے زخم کی حالت تو بندر کے زخم کی سی ہو گئی ہے۔جب کسی بندر کو زخم ہو جاتا ہے تو قریب قریب کے سارے بندر اُس کے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔پہلے ایک بندر یہ دیکھنے کے لئے کہ زخم کہاں ہے اور کتنا ہے، آگے بڑھ کر زخم میں پنجہ ڈال دیتا ہے پھر دوسرا بندر آگے آتا ہے اور وہ بھی زخمی بندر سے یہی سلوک کرتا ہے۔اسی طرح سارے بندر ایک ایک کر کے آتے ہیں اور اُس کے زخم میں ہاتھ ڈال ڈال کر دیکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی حالت بجائے درست ہونے کے اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔آخر زخمی بندر جنگل میں بھاگ جاتا ہے اور جب تک زخم ٹھیک نہ ہو وہ واپس نہیں آتا۔آپ فرماتے تھے کہ میرے زخم کی حالت بھی بندر کے زخم کی سی ہوگئی ہے ہر ایک شخص جو تیمار داری کے لئے آتا ہے، اخلاص اور محبت کی وجہ سے کہتا ہے مجھے زخم دکھاؤ۔اور پھر کہتا ہے یہ کیسے ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ اس کی اب کیا حالت ہے؟ کیا علاج کیا گیا ہے؟ غرض رات دن یہی ہوتا رہتا ہے۔آپ فرماتے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور وہ رات دن یہی کہتا رہے کہ میں بیمار ہوں تو وہ اپنے آپ کو بیمار کہتے کہتے مر جائے گا اور اگر وہ کہے کہ میں اچھا ہوں تو سننے والے اُسے جھوٹ کہیں گے۔پس میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔ہزاروں پوچھنے والے ہیں اور ان کے سوالات بھی کئی ہوتے ہیں۔مثلاً کیا بیماری ہے؟ یہ کیسے لاحق ہوئی ؟ اس کا کیا علاج کر رہے ہیں؟ علاج کون کر رہا ہے؟ اب علاج کی وجہ سے کس قدر آرام ہے؟ اگر دو چار سو ملاقاتی ہوں اور مریض ان سے صبح سے شام تک