خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 549
خطابات شوری جلد سوم ۵۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء جن چیزوں سے پر ہیز بتایا جاتا ہے وہی چیزیں تندرستی کا باعث ہوتی ہیں۔مثلاً میٹھے سے جسم کے اندر طاقت پیدا ہوتی ہے لیکن ذیا بیطس کی صورت میں میٹھا کھانا قطعی طور پر بند ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب سے مجھے پیشاب میں شکر آ رہی ہے میں نے صرف ایک دن چائے میں ایک چمچہ میٹھا ڈال کر پیا ہے ورنہ میں پھیکی چائے پیتا ہوں یا اس میں دوائی ڈال کر پیتا رہا ہوں۔غرض ذیا بیطس کی وجہ سے طاقت پیدا کرنے والی جو چیزیں تھیں وہ میں نے چھوڑ دی ہیں پھر گاؤٹ (نقرس) کی وجہ سے گوشت کا استعمال نہیں کیا جاتا۔گاؤٹ کی بیماری میں گوشت کا استعمال طبی طور پر منع ہے۔ڈاکٹر اس کے استعمال سے روکتے ہیں۔گویا ایک طرف مجھے روٹی کھانے سے روکا جاتا ہے اور دوسری طرف ذیا بیطیس اور گاؤٹ کی وجہ سے میٹھا اور گوشت جیسی طاقت پیدا کرنے والی چیزوں سے روکا جاتا ہے۔باقی جو چیزیں رہ گئیں مثلاً شور با تر کاری یا صرف تر کاری انہیں نہ تو کوئی انسان رغبت سے کھا سکتا ہے اور نہ ان کے کھانے سے کوئی طاقت پیدا ہوتی ہے۔اوّل تو میں یہ چیزیں کھا ہی نہیں سکتا اور اگر کسی وقت کچھ کھا لیتا ہوں تو نفرت سے کھاتا ہوں۔پس جن چیزوں سے جسم کے اندر طاقت پیدا ہوتی ہے وہ علاج کے دوران میں چھوڑنی ضروری ہیں۔ایسی صورت میں خود ظاہر ہے کہ طاقت بحال ہونے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔اسی طرح جب لاہور سے علاج کیلئے ڈاکٹر یہاں آئے تو میں نے اُن سے پوچھا آپ کے خیال میں یہ زخم کتنے عرصہ تک ٹھیک ہو جائے گا ؟ اُنہوں نے کہا جو ٹانکوں والا حصہ ہے یہ تو دس دن میں ٹھیک ہو جائے گا اور جونکی والا حصہ ہے وہ کوئی بائیس دن میں ٹھیک ہو جائے گا لیکن اندر کے زخم کے ٹھیک ہونے میں دیر لگتی ہے۔میں نے کہا اندر کا زخم کب تک ٹھیک ہو جائے گا؟ تو انہوں نے کہا ممکن ہے کہ اس پر تین ساڑھے تین ماہ کا عرصہ لگ جائے۔ایک عصبہ جو کٹ گیا ہے اس کی وجہ سے میرے سر کا چوتھا حصہ سُن ہے، اس کی جس ماری گئی ہے۔اس کے متعلق میں نے ڈاکٹروں سے دریافت کیا تو اُنہوں نے بتایا یقین تو نہیں لیکن اکثر یہ عصبہ ٹھیک ہو جایا کرتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد وہ خود بڑھنا بھی شروع ہو جایا کرتا ہے اگر ایسا ہو یعنی وہ عصبہ ٹھیک ہو جائے اور خود بڑھنا شروع کر دے تو اس پر چھ ماہ کا عرصہ لگ جائے گا۔گویا صحت کے لئے اگر وہ ممکن ہو تو تین ماہ سے ساڑھے چھ ماہ تک کا عرصہ