خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 548
خطابات شوری جلد سوم ۵۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء معلوم نہیں ہو سکی ۔ بظاہر اس کی موٹی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حملہ کے بعد کل میں پہلی دفعہ پگڑی پہن کر آیا تھا اور پگڑی کا سر پر بوجھ محسوس ہوتا تھا ۔ اسی طرح گلاہ عین زخم کی جگہ کے او پر لگتا تھا ، اس کی وجہ سے درد شروع ہو گیا ۔ آج میں ایک قسم کی ترکی ٹوپی پہن کر آیا ہوں جو ایک دوست لائے تھے۔ شوری میں آنے لگا تو میں نے یہ ٹوپی سر پر رکھ لی۔ گھر والے اعتراض کرتے تھے کہ یہ وقار کے خلاف ہے۔ میں نے کہا اگر وقار کے خلاف بھی یہ بات ہو تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ میں جانتا تھا کہ پگڑی باندھ کر آنا میرے لئے ممکن نہیں ۔ میں نے ٹوپی پہن لی اور گھر والوں کا لحاظ کر کے ٹوپی پر ایک رومال باندھ لیا تا ٹوپی رومال کے نیچے چُھپ جائے اور سر بھی ننگا نہ رہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے تھوڑی دیر کے بعد میں واپس چلا جاؤں گا ۔ جب مجلس شوری کی کارروائی ختم ہو گی تو مجھے اطلاع دے دی جائے گی اور میں اختتامی دعا کے لئے پھر آ جاؤں گا ۔ اس عرصہ میں اگر کوئی ایسی کارروائی ہوئی کہ جس کے متعلق میں نے کچھ کہنا ضروری سمجھا تو میں کہہ دوں گا۔ میری طبیعت کی خرابی کے مطابق اُن دوستوں کو جو اس عرصہ میں مجھے ملتے رہے ہیں یا خطوط لکھتے رہے ہیں سب کو ایک قسم کی غلط نہی پیدا ہو گئی ہے۔ زخم بظاہر مندمل ہو گیا ہے اور جو لوگ طب سے واقف نہیں وہ زخم مندمل ہونے کے معنے گلی صحت کے سمجھتے ہیں۔ حالانکہ تھوڑے سے تدبر سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا میں ہر شخص مرتا ہے لیکن زخم کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اگر ایک لاکھ اشخاص مرتے ہیں تو ان میں سے شاید ایک زخم کی وجہ سے مرتا ہے۔ باقی ۹۹۹۹۹ بخار کی وجہ سے مرتے ہیں ، نمونیہ کی وجہ سے مرتے ہیں، ذات الجنب کی وجہ سے مرتے ہیں ، کھانسی یا سل کی وجہ سے مرتے ہیں، ذیا بیطس کی وجہ سے مرتے ہیں یا اور کسی قسم کی کمزوری اور ضعف سے مرتے ہیں۔ پس محض زخم کا مندمل ہو جانا اس بات کی علامت نہیں کہ میں اچھا ہو چکا ہوں کیونکہ ایک ایسے شخص کے جسم سے اُس کے سارے خون کا نکل جانا جس کی عمر شمسی حساب سے ۶۵ سال کی ہو چکی ہے اور قمری لحاظ سے وہ ۶۷۲ سال کا ہو چکا ہے، زخم سے بھی زیادہ خطر ناک بیماری ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے جو چیز جسم کے اندر بنائی ہے وہ ختم ہو گئی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ذیا بیطس کی بھی شکایت پیدا ہوگئی ہے اس کی وجہ سے