خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 543
خطابات شوری جلد سوم ۵۴۳ مشاورت ۱۹۵۲ء کی رائے کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر نمائندگان کی اکثریت نے سب کمیٹی کی رائے کی تائید کی۔حضور نے فرمایا: - فیصلہ چونکہ اکثریت سب کمیٹی کی رائے کے حق میں ہے کہ اس قسم کا قاعدہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں جس کی رو سے بہشتی مقبرہ میں قطعات مخصوص کرانے کا طریق جاری کیا جائے۔جن میں ایک خاندان کے افراد ان کی خواہش کے مطابق اکٹھے دفن ہوں۔اس لئے میں بھی کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں لیکن اگلے سال غور کر کے اس بات کو پیش کیا جاسکتا ہے کہ بہشتی مقبرہ کے ایک طرف علیحدہ ایک قطعہ مخصوص کر دیا جائے جس میں صرف میاں بیوی اگر اپنے لئے جگہ ریز رو کرانا چاہیں تو کروالیں۔“ اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے احباب کو رخصت کرتے ہوئے انہیں ایک مختصر خطاب سے نوازا۔دعاؤں کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : - ”اب میں دعا کر کے اس جلسہ کو برخاست کروں گا۔دوستوں کو بھی چاہئے کہ وہ میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضلوں سے ڈھانپ لے اور ہماری مشکلات اور تکالیف کو دور فرمائے۔حقیقت یہ ہے کہ ان ایام میں میری طبیعت پر حضرت اماں جان ) کی تشویشناک علالت کی وجہ سے سخت بوجھ رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور میں اس کام کو سر انجام دے سکا۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان دنوں خاص طور پر دعاؤں سے کام لیں اور اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کریں۔ہمارا سلسلہ مالی لحاظ سے اس وقت ایک نازک دور میں سے گزر رہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بھی ذکر آچکا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ بَلِيَّةٌ مَا لِيَّةٌ ها یعنی مالی مشکلات کا دور آنے والا ہے۔سو وہ دور تو آپکا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان مشکلات کے حل کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا فرمادے گا اور وہ ہماری کشتی کو اس بھنور سے سلامتی کے ساتھ نکال لے جائے گا۔