خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 542

خطابات شوری جلد سوم انتظام کیا جائے۔“ ۵۴۲ مشاورت ۱۹۵۲ء نمائندگان مجلس مشاورت نے اس رپورٹ کے بارہ میں اپنی آراء کا تفصیل سے اظہار کیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : - ”جہاں تک عمل کا سوال ہے اس میں بڑی دھنیں ہیں لیکن جہاں تک جذبات کا سوال ہے اس کے لحاظ سے بھی اس میں بڑی دقتیں ہیں۔سب کمیٹی نے بے شک مخالف رائے کا اظہار کیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو ایک حد تک اس سوال کی اہمیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اپنی وفات کے متعلق متواتر الہامات ہوئے اور آپ نے بعض رؤیا بھی دیکھے تو ایک دن آپ سیر کرتے ہوئے بہشتی مقبرہ کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا یہاں مجھے چاندی کی بنی ہوئی قبریں دکھائی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ یہ تیری اور تیرے خاندان کے افراد کی قبریں ہیں۔چنانچہ اسی رؤیا کی بناء پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مدفون ہیں، وہاں ایک بڑا سا احاطہ بنایا گیا تا کہ آپ کے خاندان کے افراد یہیں دفن ہوں۔ادھر قرآن کریم بھی فرماتا ہے کہ الْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ " یعنی ہم جنتیوں کے ساتھ اُن کے رشتہ داروں کو بھی جمع کر دیں گے۔تو اس بارہ میں دلوں کے اندر جو جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ اتنے اہم ہوتے ہیں کہ خدا نے بھی ان کا لحاظ رکھا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی رویا میں بتایا گیا کہ یہ تیری اور تیرے خاندان کے افراد کی قبریں ہیں جو چاندی کی طرح چمک رہی ہیں مگر یہ مطالبات پھر بڑھتے بڑھتے ایسا رنگ اختیار کر لیتے ہیں کہ انتظام میں کئی قسم کی دشتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور جب لوگ ریز روشھدہ قطعات کو دیکھتے ہیں تو انہیں غصہ آتا ہے کہ یہ قطعے تو اوروں نے ریز رو کر وا لئے اب ہمیں کہیں دُور جگہ ملے گی۔پس میرے نزدیک جہاں قاعدہ کے رو سے اس میں مشکلات ہیں وہاں اگر مزید غور کی ضرورت محسوس ہونے پر کسی وقت یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ اگر میاں بیوی اکٹھے دفن ہونا چاہیں تو ان کے لئے فلاں قطعہ مخصوص ہو گا تو میرے نزدیک اس قسم کی تجویز نکالی جا سکتی ہے مگر موجودہ حالات میں چونکہ اس پر غور نہیں ہو رہا اس لئے اس وقت صرف اس بات پر غور ہوگا کہ کیا موصیوں کو یہ اجازت دی جائے یا نہ کہ وہ اپنے اور اپنے عزیزوں کے لئے ایک قطعہ مخصوص کرالیں۔سب کمیٹی کی رائے اس کے خلاف ہے۔جو دوست