خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 541

خطابات شوری جلد سوم ۵۴۱ مشاورت ۱۹۵۲ء مرنے کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک وصیت کے قانون کے ماتحت ہم اس قاعدہ کو جاری نہیں کر سکتے۔دفتر بہشتی مقبرہ والوں کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہ کریں کہ حصہ جائیداد ادا کرنا ان پر آج سے ہی واجب ہے یہ حصہ درحقیقت ان کی موت پر لیا جائے گا۔پس جو دوست مشورہ دیں ان کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ شرعی مسئلہ کے لحاظ سے جائیداد پر موت کے بعد ہی وصیت حاوی ہوتی ہے۔چاہے ایک بھینس بھی باقی نہ رہے یا ایک زیور بھی نہ رہے۔اگر مرنے کے بعد کسی کے پاس ایک بھینس کی بجائے دو بھینس ہوں گی تو وصیت دونوں بھینسوں پر حاوی ہو جائے گی۔اگر پانچ ہوں گی تو پانچوں پر حاوی ہو جائے گی۔اگر ایک بھی نہ رہے گی تو ایک پر بھی حاوی نہیں رہے گی۔سب کمیٹی کی تجویز بھی یہی ہے کہ اس بارہ میں کوئی قاعدہ بنانے کی ضرورت نہیں طوعی رنگ میں دوستوں کو تحریک بے شک کی جا سکتی ہے لیکن شرعی قاعدہ یہی ہے کہ مرنے کے بعد کے زمانہ پر وصیت واجب ہوتی ہے۔“ اس کے بعد رائے شماری ہوئی۔اکثریت نے سب کمیٹی کی تجویز کی تائید کی۔اس پر حضور نے فرمایا: - چونکہ اکثریت سب کمیٹی کی رائے کے حق میں ہے اس لئے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فیصلہ رسالہ الوصیت کے مطابق وصیت ترکہ پر واجب ہے پس موصی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حصہ وصیت اپنی زندگی میں ہی ادا کرے تو اس کو سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا۔جو لوگ جائداد کی وصیت کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ دیدیں قاعدہ کے طور پر اُن کے لئے اپنی زندگی میں جائداد بطور حصہ وصیت ادا کرنا ضروری نہیں۔قاعدہ یہی ہے کہ وفات کے بعد جو جائداد باقی ہوگی اُس پر وصیت حاوی ہوگی۔“ بہشتی مقبرہ میں قبر کے لئے جگہ ریز رو کرانا بھارت بہشتی مقبرہ کی ایک تجویز کے بارہ میں سب کمیٹی کی طرف سے رپورٹ پیش ہوئی کہ سب کمیٹی اُن دوستوں کی خواہش کی تائید میں نہیں جو ایسا قاعدہ بنوانا چاہتے ہیں جس سے اُن کے خاندان کے افراد کو ایک قطعہ میں دفن کرنے کا