خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 540
خطابات شوری جلد سوم ۵۴۰ مشاورت ۱۹۵۲ء حضور نے اس کے بارہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا : - ”میرے نزدیک وصیت کے لئے وہ شرط جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے۔جہاں تک کسی کی آمدن کا سوال ہے وہ تو بالکل واضح ہے اور ہر شخص کے لئے جس کا گزارہ کسی ماہوار آمد پر ہو ضروری ہے کہ وہ اپنی ماہوار آمد کا مقررہ حصہ دفتر بہشتی مقبرہ کو ادا کرے لیکن جہاں تک اس جائیداد کا سوال ہے جو کوئی آمد پیدا نہیں کرتی بلکہ اس کی قیمت کے لحاظ سے اس پر حصہ واجب ہوتا ہے، ایسی جائیداد پر وصیت کے لحاظ سے مرنے کے بعد ہی قانون جاری کیا جا سکتا ہے اس سے پہلے نہیں اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم اس کے متعلق یہ فیصلہ کر دیں کہ وصیت کرنے والے کو اپنی زندگی میں ہی جائیداد کا حصہ ادا کرنا چاہئے۔بے شک اگر کسی وقت سلسلہ کو مالی مشکلات ہوں تو اس وقت طوعی رنگ میں تحریک کی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی دوست اپنے مال مویشیوں کا مقررہ حصہ ادا کر دیں یا اپنی جائیداد کا کوئی حصہ فروخت کر کے سلسلہ کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ سے وہ ثواب کے مستحق ہوں گے لیکن وصیت میں جس بھینس کا ذکر کیا جاتا ہے اس سے مراد بہر حال وہی بھینس ہو گی جو مرنے کے بعد باقی رہے یا اگر وصیت میں کوئی عورت اپنا زیور لکھواتی ہے تو اس سے مراد اس کا وہ زیور نہیں جو اس وقت اس کے پاس موجود ہے بلکہ وہ زیور مراد ہے جو مرنے کے بعد اس سے حاصل ہوتا ہے۔یہی صورت زمین کی ہے۔زمین سے بھی وہی زمین مراد ہے جو مرنے کے بعد پائی جائے۔اگر کوئی شخص وصیت میں اپنی زمین لکھواتا ہے یا کوئی عورت زیور درج کراتی ہے اور پھر وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی ضروریات کے لئے اس زمین کو فروخت کر دیتا ہے یا عورت اپنے زیور کو فروخت کر دیتی ہے تو چونکہ ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں رہے گی اس لئے ترکہ میں یہ چیزیں شمار نہیں ہوں گی۔حقیقتا وصیت کا اطلاق اس آمد پر جو کسی کو ہورہی ہو جمع اس ترکہ کے ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑتا ہے۔زندگی میں اگر وہ اپنی جائیداد کو فروخت کر دیتا ہے یا اپنے کسی اور مصرف میں لے آتا ہے تو اس کا اُسے حق حاصل ہے۔جیسے کسی شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو اور وہ پچاس ہزار بیٹے کو اور بچھپیں پچیس ہزار اپنی دو بیٹیوں کو دے دے تو اس کا ایک لاکھ روپیہ ختم ہو جائے گا۔یہی حالت وصیت کی ہے۔وصیت کا حق در حقیقت جائیداد کے لحاظ سے