خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 531

خطابات شوری جلد سوم ۵۳۱ مشاورت ۱۹۵۲ء ہو رہا۔ان دنوں صرف ایک زمیندار نے ضلع جھنگ میں جماعت سرگودھا کے ذریعہ احمدیت کو قبول کیا ہے حالانکہ دیر سے اس طرف خاموشی تھی۔صرف غرباء جماعت میں داخل ہوتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام غرباء میں ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ جو بُھوکوں مرتے ہیں وہی لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔مکہ میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے اُن میں امیر بھی شامل تھے۔حضرت ابوبکر کو دیکھ لو آپ امیر تھے۔اگر آپ غریب تھے تو آپ نے سات آٹھ غلام آزاد کیسے کرائے۔ایک ایک غلام کی قیمت اُن دنوں سات سات آٹھ آٹھ ہزار درہم تھی۔پھر سارا بیت المال حضرت خدیجہ تھیں۔آپ بڑی مالدار عورت تھیں۔اسلام کے پاس کوئی خزانہ نہیں تھا۔سارا بوجھ حضرت خدیجہ نے ہی اُٹھایا ہوا تھا۔پھر حضرت عثمان کا نام ہی غنی ہے۔پھر حضرت زبیر، حضرت طلحہ ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح ، حضرت عمرؓ سارے کے سارے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے پاس پانچ پانچ غلام کام کرتے تھے اور یہ سب جائدادوں اور زمینوں والے تھے۔یہ لازمی بات ہے کہ جب لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے تو ان میں کثرت غرباء کی تھی لیکن غرباء کی کثرت کے یہ معنے نہیں کہ کوئی پڑھا لکھا اور عظمند انسان اسلام کے متعلق کوئی بات نہیں سنتا۔اگر کسی کا ذہن اعلیٰ ہے اور وہ عقلمند ہے تو وہ آپ کی طرف ضرور توجہ کرے گا۔صرف سستی کی وجہ سے ہم پر زنگ لگ گیا ہے اور ہمیں یہ مرض ہو گیا ہے کہ ہم دوسروں کو تبلیغ نہیں کرتے۔یہ مرض دوسروں کی پیدا کی ہوئی نہیں ہماری خود پیدا کی ہوئی ہے۔پھر یہ مرض خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی نہیں ، ہم نے خوداپنے اندر یہ بیماری پیدا کی ہے۔پس ان لوگوں میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے اور پھر اپنے اپنے طبقہ میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے۔کشمیر کے لوگ یہاں بیٹھے ہیں۔میں نے انہیں کہا تم تبلیغ کرو۔چنانچہ انہوں نے میری بات مان لی۔اب اکثر لوگ کہتے ہیں ہمیں گل گا ر صاحب نے تبلیغ کی ہے۔بہر حال اگر ہمارے دوست اپنے اپنے طبقہ میں تبلیغ کریں تو اس کا ضرور اثر ہوگا اور اگر ہم اس طرح تبلیغ میں لگے رہے تو پانچ چھ سال میں ایک مضبوط جماعت قائم ہو جائے گی۔اصل بات یہ ہے کہ ہم نے تبلیغ کی ہی نہیں ہوتی۔بڑے لوگوں کی تبلیغ یہ ہے کہ بعض