خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 529
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۹ مشاورت ۱۹۵۲ء اور ایک حصہ میاں بشیر احمد صاحب کا ہے۔ہم نے مشترکہ طور پر یہ جائیداد خریدی تھی علاوہ سندھ کی زرعی زمینوں کے۔یہ جائیداد اگر پک جائے تو دس ہزار روپیہ صدر انجمن احمد یہ کومل سکتا ہے۔اگر صدر انجمن احمد یہ ان جائیدادوں کو اس سال بیچنے میں کامیاب ہو جائے تو بجٹ میں ۳۰۔۳۵ ہزار روپیہ کی کمی آسکتی ہے۔میں نے صدر انجمن احمدیہ کو بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ بوجھ کو ننگا کرنا چاہئے چھپانا نہیں چاہئے۔جتنا ظاہر کرو گے تمہیں اُتنی ہی گھبراہٹ ہوگی اور تم اسے ہلکا کرنے کی کوشش کرو گے۔فنانس سٹینڈنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ بجٹ میں ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا قرض ہے۔اگر کمیٹی اس چیز کو ننگا نہ کرتی تو اگلے سال بوجھ زیادہ ہو جاتا۔اب کم از کم گھبراہٹ تو رہے گی اور یہ فکر رہے گا کہ کسی طرح یہ بوجھ ہلکا ہو جائے۔پنے اپنے طبقہ میں تبلیغ کرو اس کے علاوہ تبلیغ کو زیادہ وسیع کرو اور اپنے اپنے دائرہ میں تبلیغ کرو۔بڑے عہد یداروں کی فطرت میں یہ 66 بات داخل ہے کہ ان پر تبلیغ گراں گزرتی ہے اس لئے نہیں کہ انہیں تبلیغ کا احساس نہیں یا اُن کے پاس علمی مواد نہیں ہوتا بلکہ صرف اس لئے کہ اگر ہم نے فلاں کو تبلیغ کی تو شاید وہ مخالفت کرنے لگ جائے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے افسرانہیں مُردہ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔قرآن کریم نے اس اصل کو لیا ہے کہ قذ تحر اِن نَفَعَتِ الذِّكرى اس آیت میں ان“ کے معنے قد کے ہیں شرط کے نہیں۔یہ محض زور دینے کے لئے ہے اس کے معنے شرط کے ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ اگر ان کے معنے شرط کے ہوں تو آیت کے یہ معنے ہوں گے۔تو نصیحت کر۔اگر نصیحت کرنا فائدہ دے لیکن سوال تو یہ ہے کہ تمہیں کیسے پتہ لگے گا کہ اگر تم نصیحت کرو تو ضرور فائدہ ہوگا۔یہ تو مستقبل کے متعلق ہے اور مستقبل کا حال انسان نہیں جانتا۔اس لئے یہ لازمی بات ہے کہ اس آیت کے یہ معنے غلط ہیں اس طرح تو کوئی نصیحت ہی نہیں کر سکے گا کیونکہ حکم یہ ہے کہ تمہیں نصیحت سے فائدہ کا یقین ہو تب نصیحت کرو پس ”اِن“ کے معنے یہاں ”قد“ کے ہیں۔اس صورت میں اس کے یہ معنے بنیں گے کہ تم نصیحت کرو اس لئے کہ نصیحت سابق میں فائدہ دیتی چلی آئی ہے۔چاہے جس کو نصیحت کی جائے وہ مانے یا نہ مانے۔دیکھو نجاشی نے نصیحت کو مان لیا یا نہیں۔پھر