خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 528
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۸ مشاورت ۱۹۵۲ء بڑھاپے کی وجہ سے وہ لیٹ گئے تھے ، ورنہ جاگ رہے تھے۔اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اور فوراً کہنے لگے جو تشریح اسلام کی علماء نے کی ہے، اُسے پڑھ کر کوئی تعلیم یافتہ مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا۔میں جب کالج میں پڑھتا تھا تو میں نے مرزا صاحب کی بعض کتابیں پڑھیں اور ان کتابوں کا یہ اثر تھا کہ اب تک میں مسلمان ہوں۔سر غلام حسین ہدایت اللہ بھاری جسم کے تھے ، بڑھے تھے اور صحت بھی کمزور تھی اور بظاہر معلوم ہوتا تھا اب ان کا حافظہ ویسا نہیں جیسا جوانی میں ہو گا مگر پھر بھی انہیں طالب علمی کے وقت کی یہ بات یاد تھی۔ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں نے سر غلام حسین ہدایت اللہ سے کہا ہو کہ احمدی غلط راستہ پر جارہے ہیں اور احمدیوں نے کہا ہو کہ جو باتیں ہمارے متعلق کہی جاتی ہیں وہ غلط ہیں۔تو انہوں نے کہا ہو کہ مجھے احمدیت کا لٹریچر دیکھ لینا چاہئے۔پس بڑے بڑے لوگ تقریریں نہیں سنتے لٹریچر پڑھ لیتے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید دونوں کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد ان دونوں کمپنیوں کو لمیٹڈ کروا لیں۔اگر کمپنیاں لمیٹڈ ہوں گی تو گورنمنٹ بھی ان کی نگرانی کرے گی۔پھر دوسرے لوگوں کے حصص ہوں گے تو انہیں بھی اپنی رقوم کا فکر ہوگا اور ہر شخص اس طرف توجہ کرے گا کہ جب سرمایہ لگایا گیا ہے تو کمپنی کو فائدہ بھی دکھانا چاہئے۔اس طرح عمدہ کتابیں شائع ہوں گی۔لوگوں کے اعتراضات کے جوابات دیئے جائیں گے اور پھر مالی فائدہ بھی ہوگا۔پلانگ سیکشن کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اس کا مہینہ بھر میں ایک اجلاس ہوا کرے۔اسی طرح محاسبہ کمیٹیوں کے متعلق بھی میں بات کر چکا ہوں۔اب میں کراچی کے دارالتبلیغ کے متعلق شوریٰ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔کراچی میں ہماری بارہ ہزار روپیہ کی ایک جائیداد ہے جو ہم نے ۱۹۴۵ ء یا ۱۹۴۶ء میں خریدی تھی اور اب وہ جائیداد ۳۵۔۳۶ ہزار روپیہ میں فروخت ہوسکتی ہے۔اگر وہ جائیداد فروخت ہو جائے تو بغیر کسی بار کے ۳۵۔۳۶ ہزار روپے مل جائیں گے۔اگر وہ ۳۵۔۳۶ ہزار میں فروخت نہیں ہوگی تو کچھ کم رقم مل جائے گی لیکن بہر حال جتنی رقم ملے گی اتنی ہی مجوزہ بجٹ میں کمی ہو جائے گی۔اس جائیداد کو بیچ کر زمین خریدی جاسکتی ہے۔پھر ایک اور جائیداد بھی ہے اور اس میں اٹھارہ حصے میرے ہیں، دس حصے انجمن کے ہیں