خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 527
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۷ مشاورت ۱۹۵۲ء بڑی بڑی جگہوں پر کتب خانے کھولو۔مثلاً راولپنڈی ہے، لاہور ہے، ملتان ہے، کراچی ہے، پشاور ہے اور پھر انہیں پھیلاتے جاؤ۔تو یہ چیز ایسی ہے کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہوگا اور پھر ثواب کا ثواب ہے۔جو دوست ان کمپنیوں میں حصہ لیں گے انہیں جہاں مالی فائدہ ہوگا وہاں اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو گی۔احمد یہ لٹریچر کے اثرات بعض چیزوں کا فائدہ دیر سے ہوتا ہے۔پرنس آف ویلز کو جو میں نے تبلیغ کی تھی اس کا بڑی دیر سے اثر ہوا ہے۔اب اس لئے ایک کتاب شائع کی ہے جس کے دو حصے ہیں اور وہ دونوں عیسائیت کو کچلنے والے ہیں۔مجھے ان کے ایک ہمسفر نے بتایا کہ وہ لاہور سے سیالکوٹ جا رہے تھے کہ رستہ میں انہوں نے آپ کی کتاب تحفہ پرنس آف ویلز کو پڑھا۔وہ ان کے ایڈی کا نگ مقرر تھے۔انہوں نے بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے اور اس کے بعد انہوں نے صراحتاً عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔میں حیران ہوں کہ کس طرح تحفہ شہزادہ ویلز نے اس پر اثر کیا۔یہاں تک کہ وہ عیسائیت سے کلی طور پر بیزار ہو گئے۔سر غلام حسین ہدایت اللہ گورنر سندھ فوت ہو گئے ہیں ، وہ مجھ سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں کراچی گیا تو اُنہوں نے مجھے دعوت پر بلایا۔میرے پاس وقت نہیں تھا تا ہم میں دعوت پر چلا گیا۔دعوت میں اور لوگ بھی مدعو تھے۔سر غلام حسین ہدایت اللہ بھاری جسم کے تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ وہ ہوشیار نہیں لیکن اس مجلس میں مجھ پر یہ اثر ہوا کہ وہ نہایت ہوشیار آدمی ہیں۔ایک آدمی نے اسلام کے متعلق ایک سوال کیا اور میں نے اُس کا جواب دینا شروع کیا۔اتنے میں سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے خراٹے مارنے شروع کر دیئے۔میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری کہ ادھر سوال کا میں نے جواب دینا شروع کیا ہے اور اُدھر اُنہوں نے خراٹے مارنے شروع کر دیئے ہیں۔میں پندرہ سولہ منٹ تک بولتا رہا۔ابھی وہ شخص کہ جس نے سوال کیا تھا بولا نہیں تھا کہ سر غلام حسین ہدایت اللہ نے آنکھیں کھول لیں اور کہا سچی بات یہ ہے کہ میں اور تو کچھ جانتا نہیں ، ہاں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب نہ آتے تو میں عیسائی ہو جاتا۔انہی کی کتابیں پڑھ کر اور سُن کر میں اسلام پر قائم رہا ہوں۔معلوم ہوتا تھا کہ