خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 524
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء دو پہلا سو دا اچھا ہے۔ آپ پہلے سو دے کا نفع نکالیں اور اسے مسجد فنڈ میں جمع کرائیں ۔ اب زمیندار بولیں کہ وہ ایک ایکٹر میں سے ایک کرم یعنی ۵ × ۵ فٹ فصل مسجد فنڈ میں دیں گے؟ گویا ایک مرلہ کا بھی دسواں حصہ ۔ یعنی ایک ایکڑ کا دوسواں حصہ یا ایک سو روپیہ میں سے آٹھ آ نہ تم ایک کرم فصل کاٹ لو اور اس کے نتیجہ میں جو آمد ہو وہ مسجد فنڈ میں دو۔ 66 دو اس پر زمیندار کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے ایسا کرنے کا عہد کیا۔ حضور نے فرمایا :- ہر فصل میں سے ایک کرم فی ایکٹر دینا ہو گا ہاں چارہ اس سے مستثنیٰ ہوگا ۔ باقی تو ریا ہے، گندم ہے، گنا ہے، کپاس ہے، سرسوں ہے ، ان سب فصلوں میں سے ۵ × ۵ فٹ فصل مسجد فنڈ میں دینی ہو گی ۔ ایکٹر میں سے جس جگہ سے چاہیں ایک کرم بھر لیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے نام پر جو دینا ہے وہ بہتر مال ہونا چاہئے ۔ ایک تاجر نے کہا ہے کہ پہلے سودے میں گھاٹا پڑ جائے تو وہ گھاٹا کس کا ہوگا ۔ یہ پڑ جائے تو وہ گھاٹ کس کا ہوگا ۔ یہ تاجرانہ ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔ اگر پہلے سو دے میں گھاٹا پڑ جاتا ہے تو وہ گھاٹا تاجر کا ہے نفع خدا تعالیٰ کا ہے۔ اگر اس نے خدا تعالیٰ کو گھاٹا دیا تو اُسے ہمیشہ گھاٹا ہی رہے گا۔ اب رہ گئے پیشہ ور، ملازموں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے پہلے ماہ کی ترقی مسجد فنڈ میں دیں گے ۔ اسی طرح تاجروں نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ مہینہ میں سب سے پہلے سو دے کا منافع مسجد فنڈ میں دیں گے ۔ اس وقت مسجد فنڈ سے مراد مسجد ہالینڈ اور مسجد واشنگٹن ہے۔ صدرانجمن احمد یہ کا مسجد فنڈ مراد نہیں ۔ یہ غیر ملکوں کی مسجدیں ہیں اس لئے یہ روپیہ تحریک جدید میں وکیل المال کو بھیجا جائے اور لکھا مسجد فنڈ جائے ۔ ملازمتوں کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر ملازم فوجی لئے جائیں تو دوسو کے قریب ہمارے فوجی افسر ہیں جن کی غالباً ترقی ۱۵ روپے سالانہ ہوتی ہے، اگر دو سو افسر ہوں اور پھر ان کی ترقی ۱۵ روپے سالانہ ہو تو تین ہزار لانہ مسجد فنڈ میں آجاتا ہے۔ سپاہیوں کی تو تنخواہ بدلتی نہیں ، دوسرے ملازم بھی ہمارے کراچی میں دو تین سو ہوں گے۔ دوسو کے قریب احمدی ملازم لاہور میں ہوں گے، سارے ویسٹ پاکستان میں اگر ایک ہزار احمدی ملازم بھی ہوں اور ایک ملازم کی اوسط ترقی ۵ روپے سالانہ رکھ لی جائے تو پانچ ہزار روپیہ آجاتا ہے اور سارا ملا کر ہمیں پچیس ہزار ہو جائے