خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 520
خطابات شوری جلد سوم ۵۲۰ مشاورت ۱۹۵۲ء نام ٹیکس رکھ دیا گیا ہے اس لئے دُہری زکوۃ وصول کی جائے۔زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب ایک تاجر مقررہ زکوۃ سے کم دے لیکن بالعموم گورنمنٹ مقررہ زکوۃ سے زیادہ ہی لیتی ہے۔ہاں نفع نہ ہونے کی صورت میں زکوۃ کم ہو جاتی ہے لیکن اسلام نے زکوۃ نفع پر نہیں رکھی کیپیٹل (Capital) پر رکھی ہے۔باقی افراد کی زکوۃ رہ جاتی ہے۔اس لئے زکوۃ کا حصہ جو جماعت کو مل سکتا ہے بہت کم ہو جاتا ہے۔زیور پر جو زکوۃ ہے اس کا ایک حصہ بھی باقی نہیں رہتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو زیور گھستا ہے اُس پر زکوۃ نہیں۔تاجروں کے پاس زیور زیادہ ہوتے ہیں۔تم لوگ کھاتے پیتے زیادہ ہو اور تمہاری عورتیں زیادہ خرچ کرتی ہیں لیکن ایک تاجر کی عورت زیادہ خرچ نہیں کرتی۔وہ تہہ بند پہنتی ہے اور جب مجلس میں آتی ہے تو ایک خاص جوڑا جو اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے پہن کر آ جاتی ہے تم سمجھتے ہو کہ وہ روزانہ ایسی پوشاک پہنتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔گویا تاجر لوگ تنگی سے گزارہ کر لیتے ہیں اور جو کچھ بچتا ہے وہ زیورات میں لگا دیتے ہیں۔تاجر لوگ زیورات کو اپنی جائداد سمجھتے ہیں اور جب لیپیٹل (Capital) میں گھاٹا پڑتا ہے تو زیور بیچ کر اس گھاٹے کو پورا کر لیتے ہیں۔پس یہ آمد کا معیار نہیں اور نہ ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ چونکہ فلاں کے پاس زیور زیادہ ہے اس لئے وہ زیادہ مالدار ہے۔عام زیور پہننے والے ہوتے ہیں اور ان پر زکوۃ نہیں۔پھر آجکل جڑاؤ زیور کا رواج ہے اور جڑاؤ زیور پر زکوۃ نہیں۔زکوۃ سونے کے حصہ پر ہوتی ہے اور وہ بہت کم ہوتا ہے اس رنگ میں ہزارواں حصہ زکوۃ کا بھی باقی نہیں رہتا۔در حقیقت کھینچ تان کر یوں سمجھنا چاہئے کہ سو میں سے ایک شخص پر زکوۃ واجب ہے اور جب سو میں سے ایک شخص پر زکوۃ واجب ہے تو اڑھائی لاکھ میں سے زکوٰۃ دینے والا صرف اڑھائی ہزار آدمی ہوا اور پھر ان اڑھائی ہزار آدمیوں میں سے بھی بعض نادہند ہوتے ہیں۔ناظر صاحب بیت المال نے بتایا ہے کہ ان کے پاس چار سو کے قریب زکوۃ دینے والوں کے کھاتے ہیں اور جب چارسو کے قریب کھاتے ہیں تو تم زکوۃ دینے والے زیادہ سے زیادہ آٹھ سو سمجھ لو۔پس یہ محض خیالی باتیں ہوتی ہیں جس وقت وہ دوست یہ بات کہہ رہے تھے میرا ذہن بچپن کے ایک واقعہ کی طرف چلا گیا۔