خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 516
خطابات شوری جلد سوم ۵۱۶ مشاورت ۱۹۵۲ء اثر بھی مومن قلوب پر ہوتا ہے غیر مومن قلوب پر نہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق حکومت پس ہمارے چندے طومی ہیں اور ہمارے پاس حکومت نہیں۔اگر حکومت ہو بھی تو ہم وہ طریق اختیار نہیں کر سکتے جو دوسری حکومتیں اختیار کرتی ہیں۔فرض کرو اگر کوئی حکومت احمدی ہو جائے اور وہ احمدیوں سے جبراً چندے وصول کرنے کا اختیار دے دے تو بھی ہماری حکومت الگ قسم کی ہوگی اور ہم وہ اختیارات اس صورت میں استعمال نہیں کریں گے جس صورت میں دوسری حکومتیں استعمال کرتی ہیں۔ہم اخلاقی پہلو کو غالب کریں گے۔ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق جبر استعمال نہیں کریں گے اور ایسے حالات میں کہ جب ہمارے چندوں کا آنا قطعی نہیں ہم جبر کے اصول پر عمل کیسے کر سکتے ہیں۔شریعت نے وہ احکام حکومت کو دیئے ہیں اور وہ اسی سے وابستہ ہیں لیکن باوجود اس کے ہم نے دیکھا ہے کہ یہ طریق چلا نہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ یا تو کام کرنے والوں کے نفوس میں ایمان کا وہ مقام نہیں یا کام لینے والے ایسے رنگ میں کام نہیں لیتے کہ کارکنوں کے دلوں میں روحانی اور مذہبی روح زیادہ ہو جائے اور کارکن ہونے کی روح کم ہو جائے۔غرض ان طریقوں سے بھی فائدہ نہیں پہنچا اور اب جو میں نے بجٹ دیکھا تو یہ میرے لئے تکلیف کا موجب ہوگا۔مجھے سر دردتھی اور اسہال بھی آ رہے تھے لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اس مصیبت کو کس طرح ٹلایا جائے۔میں ذکر کر رہا تھا کہ میں نے احتیاط کے طور پر یہ قاعدہ بنایا تھا کہ نظارت بیت المال موجودہ سال یا اس سے پہلے سال کا بجٹ آمد سامنے رکھ کر اس سے دس فیصدی کم بجٹ اخراجات تیار کیا کرے لیکن نظارت نے اس کی پابندی نہیں کی۔نظارت نے کہا ہے کہ میری طرف سے یہ بات کہی گئی تھی کہ کسی سال کے بجٹ سے دس فیصدی کم بجٹ بنایا جائے حالانکہ یہ درست نہیں۔خود بیت المال والوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے جواب دیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ پچھلے سال کے بجٹ آمد سے دس فیصدی کم رکھ لیا جائے یا اس سے پہلے سال کے بجٹ آمد سے دس فیصدی کم رکھ لیا جائے۔میں دیکھ رہا تھا کہ قاعدہ ٹوٹ چکا ہے اس لئے اسے دوبارہ سہولت سے قائم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹوٹی ہوئی چیز زور سے اصلاح پذیر نہیں ہوتی۔