خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 510

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممبروں کو یہ بتا دیں کہ کس وقت اور کس مقام پر ان کا مشورہ کے لئے جمع ہونا ضروری ہوگا تاکہ سب کمیٹیاں اپنی اپنی کارروائی جاری رکھ سکیں“۔دوسرا دن مجلس مشاورت میں صحابہ کی نمائندگی مشاورت کے دوسرے دن ۱۲۔اپریل ۱۹۵۲ء کو نظارت اعلیٰ کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد حضور نے فرمایا: - دوستوں نے ناظر صاحب اعلیٰ کی رپورٹ سُن لی ہے۔گزشتہ سال کے فیصلہ جات جو تعیین نمائندگان کے متعلق تھے اس میں بعض غلطیاں رہ گئی ہیں مثلاً صحابہ کی نمائندگی کے متعلق ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ۱۹۰۰ ء سے پہلے کے صحابہ سارے کے سارے بطور حق کے ممبر ہیں اس میں جو مضمون ہے وہ بتاتا ہے کہ اس میں در حقیقت صحابہ کی اہمیت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔یعنی وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت حاصل کی اور استفادہ کیا۔ان کے شوریٰ میں بُلانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کی صحبت کے اثر سے برکت کی جائے لیکن صحابہ کا لفظ بولتے وقت ایسی تشریح نہیں کی گئی جس میں یہ سارا مضمون آجائے۔صحابہ کو بطور حق ممبر بناتے وقت یہی بات مد نظر تھی کہ ایسے لوگوں کو شمولیت کا موقع دیا جائے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت حاصل کی ہو اور اس سے فائدہ اُٹھایا ہو لیکن محض صحابہؓ کے لفظ میں وہ بچہ بھی شامل ہے جو ۱۸۹۸ء، ۱۸۹۹ء، یا ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوا۔بہر حال صحابی کے لفظ کی تشریح ہونی چاہئے۔صحابہ کی یہ تعریف بھی کی جاتی ہے کہ وہ شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہو گیا اور اس نے اپنی زندگی میں چاہے کفر کی حالت میں ہی ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو تو وہ صحابی ہے۔پھر ایک تعریف یہ بھی ہے کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو یا آپ نے اُسے دیکھا ہو۔غرض صحابی کی کئی تعریفیں ہیں، مختلف ضرورتوں کے ماتحت اس کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں لیکن محض دیکھ لینے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا ، ہمیں فائدہ تو اسی صورت