خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 507

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء اُنہیں تبلیغ نہیں کرتے مگر دشمن پھر بھی تمہیں بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔گویا دونوں جگہ تم اپنا منہ کالا کراتے ہو۔پاکستان گورنمنٹ سے لوگ ملنے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہر احمدی تبلیغ کرتا ہے گو ہر احمدی کا تبلیغ کرنا مجرم نہیں۔بُری بات یہ ہے کہ کوئی اپنے ماتحت پر اثر ڈال کر اسے تبلیغ کرے۔اور ادھر خدا سے تم ملنے جاؤ گے تو خدا کہے گا کہ مجھ سے کیا لینے آئے ہو، میری تو تم نے کبھی تبلیغ ہی نہیں کی۔پس نہ اس جہاں میں عزت رہی اور نہ اگلے جہان میں عزت ملی۔پھر اس کا فائدہ کیا ہوا۔پس ہر شخص جسے قانون اجازت دیتا ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی سوسائٹی میں تبلیغ کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کسی وکیل کا یہ لکھ دینا کہ میر امنشی بیعت کرتا ہے، یہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔معلوم نہیں اس نے کسی لالچ کے لئے احمدیت قبول کی ہے یا محض خانہ پری کے لئے کی ہے۔تبلیغ اپنی حیثیت کے لوگوں میں کرنی چاہئے اور اگر ہر شخص ایسا کرے تو تم دیکھ لو گے کہ کس طرح دو چار سال میں ہی جماعت بڑھ جاتی ہے۔یہ کہہ دینا کہ کوئی مانتا نہیں بالکل غلط ہے۔وجہ صرف یہی ہے کہ تم تبلیغ نہیں کرتے۔اگر اس کے لئے کوئی معین سکیم تیار کی جائے تو بڑے وسیع نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔دار التبلیغ کراچی میں اس موقع پر یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کراچی کی اہمیت چونکہ پاکستان کی وجہ سے بہت بڑھ گئی ہے اس لئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے وہاں ہمارا مکان بن جائے اور ضروری ہے کہ سلسلہ کے نہایت اچھے اور قابل نمائندے وہاں رہیں۔تا کہ ہمارا سلسلہ ساری دنیا سے روشناس ہو سکے ورنہ بیرونی ملکوں پر بُرا اثر پڑے گا۔وقف کی شرائط ایک اور بات جس کو میں دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وقف کی شرائط کے متعلق میرے نظریہ میں کچھ تبدیلی پیدا ہوئی ہے کیونکہ میں نے دیکھا کہ کئی لوگوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا اور پھر بھاگ گئے۔اس کی بڑی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ وقف بچپن میں کیا جاتا ہے یا وہ لوگ بھی جن کا صرف ایک ہی بچہ ہوتا ہے، اپنے بچوں کو وقف کر دیتے ہیں اور پھر انہیں مشکلات پیش آتی ہیں۔اب غور کرنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وقف کے متعلق مندرجہ ذیل امور مدنظر رکھنے چاہئیں۔