خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 491

خطابات شوری جلد سوم ۴۹۱ مشاورت ۱۹۵۲ء کچھ نہ کچھ شغل رکھتے ہیں۔باقی بھی یقیناً ایسا کر سکتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض اپنے فن میں ان پرانے علماء سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں مگر وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے اور مساجد کے ملانوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔اسی سلسلہ میں ہماری سکیم یہ ہونی چاہئے کہ ہر بڑے شہر میں ہم ایک پبلک لائبریری قائم کر دیں لیکن بجٹ میں اس کے متعلق گنجائش نہیں رکھی جاتی۔حالانکہ یہ ایسا اہم کام ہے کہ اس سے آپ ہی آپ تعلیم یافتہ طبقہ میں تبلیغ کا سلسلہ وسیع ہو جاتا ہے۔دعوۃ و تبلیغ: یہ صیغہ بھی دوسرے صیغوں کی طرح سورہا تھا لیکن جب سے شاہ صاحب مقرر ہوئے ہیں اس میں بیداری ہے اور ان کے نائب بھی گو قابل نہیں ہیں مگر کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نائیوں کو کام دیں اور ان سے کام کروائیں لیکن حقیقی منصوبہ بندی اس صیغہ میں بھی نہیں صرف ہنگامی کام کر رہے ہیں۔محکمہ مال : یہ محکمہ تو بے چارا روز پکڑا جاتا ہے۔اگر تنخواہیں ملنے میں ذرا بھی دیر ہو تو شور مچ جاتا ہے۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب اس محکمہ کی روح رواں ہیں۔باوجود بوڑھے اور بیمار ہونے کے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا ملکہ عطا فرمایا ہے کہ جو محکمہ بھی خان صاحب کے سپرد کر دیا جائے اس میں زندگی اور بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔یہ خدا کا فضل ہے وہ جس سے چاہتا ہے کام لیتا ہے۔وكالتِ اعلیٰ یہ نظارت علیاء کی طرح ہے لیکن نظارت علیاء تو ایک بوڑھے کے قبضہ میں ہے اور وکالت علیاء ایک نوجوان کے قبضہ میں۔مگر ایک نوجوان کے قبضہ میں ہونے کے باوجود یہ بہت کچھ بے کا رسا صیغہ ہے اور تعاون اور منصوبہ بندی کی طرف سے غافل ہے۔اب تک بیرونی ممالک کے لئے قانون اساسی تک نہیں بن سکا۔متواتر ہیں سال سے وہاں کی جماعتیں لکھ رہی ہیں کہ ہمیں قانون اساسی بھجوا ؤ مگر محکمہ نے اس طرف کبھی توجہ نہیں کی۔نائیجیریا میں دس ہزار کے قریب آدمی ایک دفعہ مرتد ہو گیا۔اس لئے کہ اُنہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم کسی غیر ملکی آدمی کو اپنا افسر نہیں مان سکتے۔اگر شروع سے ہی اس معاملے کو طے کر لیا جاتا تو انہیں یہ ٹھوکر نہ لگتی۔وکالت قانون : تنگ آ کر میں نے اس غرض کے لئے ایک وکالت قانون قائم کی