خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 490

خطابات شوری جلد سوم ۴۹۰ مشاورت ۱۹۵۲ء شمس صاحب نے اس کام میں جان ڈال دی ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اب مغرور ہوکر سُست ہو جائیں، بہر حال ان پر الزام کوئی نہیں۔انہوں نے پہلے ایک کتاب شائع کی اور پھر اس کی آمد سے اور بہت سی کتابیں شائع کر دیں۔یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو امید ہے کہ تین چار سال میں وہ سلسلہ کی ساری کتابیں چھاپ لیں گے مگر اس سلسلہ میں ابھی بہت سی گنجائش ہے اور اس کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔اوّل روپیہ، اگر اس کام کو ہم وسیع کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کام کے لئے ہم روپیہ صرف کریں۔دوم۔تصانیف ہمیشہ کسی اصول کے ماتحت ہونی چاہئیں اور ہر سال ایک میٹنگ بلائی جانی چاہئے جس میں اس امر پر غور ہونا چاہئے کہ زمانہ کا دماغ کدھر جا رہا ہے اور لوگوں کے خیالات کی روکس طرف ہے۔پھر اس کے مطابق کام ہونا چاہئے۔کسی زمانہ میں خالی وفات مسیح کے مسئلہ سے کام ہو جاتا تھا لیکن اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام پیٹ کے دھندوں کا کیا علاج کرتا ہے؟ امن کے قیام کے لئے وہ کونسی تجاویز پیش کرتا ہے؟ یا کونسی تدابیر ہیں جن سے پاکستان مضبوط ہو جائے اور اسلام دنیا پر غالب آجائے؟ چونکہ اب مسلمانوں کو حکومت مل گئی ہے اس لئے نئے نئے سوالات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ان سوالات کے متعلق ہماری طرف سے کتابیں شائع ہونی چاہئیں مگر ان امور کے متعلق بھی کوئی پلاننگ نہیں۔اب تک یہی طریق رہا ہے کہ جنہیں لکھنے کا شوق ہے وہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں، کسی معین اور واضح سکیم کے ماتحت ان کا کام نہیں ہوتا۔اس نقص کو دور کرنے کے لئے میں نے علماء کو بعض رسالے لکھنے کی تحریک کی تھی جن میں سے ۲۵ مضامین پر رسالے لکھے جاچکے ہیں۔ابھی وہ صرف بچوں کے لئے لکھ رہے ہیں پھر نو جوانوں کے لئے کتابیں لکھی جائیں گی اور اس کے بعد زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے کتابیں لکھی جائیں گی۔ان کتابوں کی اشاعت تجارتی لحاظ سے بھی ہمارے لئے مفید ہوگی اور ہماری تبلیغ کا سلسلہ بھی وسیع ہوگا۔مجھے افسوس ہے کہ علماء اس میں تعاون نہیں کر رہے حالانکہ ان کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھا ئیں۔جن علماء اور مدرسوں کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا ان سے بھی بڑی مصیبتوں کے بعد لجاجتیں کر کر کے مضمون لئے گئے ہیں اور بعض نے اب تک نہیں دیئے۔اس کام میں مولوی ابو العطاء صاحب رسالہ فرقان کے ذریعہ سے