خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 483

خطابات شوری جلد سوم ۴۸۳ مشاورت ۱۹۵۲ء اُسے یوں ماروں گا کہ جا دفعہ ہو جا۔ادھر اس نے یہ سوچا اور اُدھر واقعہ میں زور سے پیر مارا جس سے اس کے تمام برتن ٹوٹ گئے۔تو بڑی نیت یا بڑا عقلمند کیا کرتا ہے یا بڑا پاگل کیا کرتا ہے۔اس نے بھی سکیم تو بڑی اچھی بنائی تھی اور وہ وزیر کا داماد بلکہ آئندہ بادشاہ بھی بن جاتا بشرطیکہ اُس کے برتن نہ ٹوٹتے۔تو بڑے ارادے یا احمق کیا کرتا ہے یا بڑا عقلمند کیا کرتا ہے۔ایک امریکن جب ہمارے مبلغ سے سنتا ہے کہ ہم نے امریکہ فتح کرنا ہے تو وہ یکدم حیران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اچھا! اتنے بڑے بڑے ارادے ہیں۔پھر وہ پوچھتا ہے کہ بتائیے آپ کام کس طرح کرتے ہیں وہ کہتا ہے بس اسی طرح کام کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میرے پاس آ جاتا ہے تو میں اُسے تبلیغ کر دیتا ہوں، اگر کوئی سوال دریافت کرتا ہے تو میں اُس کا جواب دے دیتا ہوں۔وہ طنزاً کہتا ہے بس میں سمجھ گیا کہ آپ امریکہ کس طرح فتح کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی سکھ کہیں بیٹھا ہوا تھا اور اس کی ڈاڑھی اور مونچھوں کے بال اس طرح بڑھے ہوئے تھے کہ سارا منہ چھپا ہوا تھا۔ایک شخص قریب آیا اور کافی دیر دیکھتا رہا۔پھر اس نے بالوں میں اپنی انگلی ڈالی یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کا منہ بھی ہے یا نہیں۔جب اس نے منہ میں انگلی ڈالی تو سکھ۔برداشت نہ ہو سکا اور اُسے گالیاں دینے لگا۔اس نے کہا سردار صاحب! غصہ نہ کیجئے۔بس یہی دیکھنا تھا کہ آپ کا منہ بھی ہے یا نہیں۔وہ بھی جب یہ جواب سنتا ہے تو کہتا ہے بس پستہ لگ گیا کہ آپ امریکہ کو کس طرح فتح کریں گے۔تو جب بھی کوئی بڑی نیت کی جائے اس کے لئے کوئی بڑی سکیم بھی بنانی چاہئے۔ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔مثلاً اگر یہی سکیم کسی کے سامنے رکھ دی جائے کہ اس وقت ہمارے چار مبلغ امریکہ کے چار بڑے بڑے شہروں میں ہیں اور وہاں مثلاً ۲ ہزار یونیورسٹی ہے۔تین تین ماہ ہم میں سے ہر شخص ان یونیورسٹیوں میں لیکچر دے گا اور اس طرح ایک سال میں ۳۶۰ یو نیورسٹیوں کو ہم اپنے خیالات سے روشناس کرا دیں گے پھر اگلے سال اور ۳۶۰ یو نیورسٹیوں کو روشناس کریں گے یہاں تک کہ تین چار سال میں امریکہ کا تمام علمی طبقہ ہمارے خیالات سے واقف ہو جائے گا۔پھر فلاں فلاں سیاسی اور مذہبی سوالات ہیں جن کا امریکن دماغ پر گہرا اثر ہے ہم ہر ماہ