خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 482

خطابات شوری جلد سوم ۴۸۲ مشاورت ۱۹۵۲ء دعوی کرتے ہیں وہ کسی چھوٹے سے کام کا نہیں کرتے بلکہ ساری دُنیا میں اسلام کے پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں اور اس کے لئے ہمارے پاس تفصیلی طور سکیمیں تیار ہونی چاہئیں۔اگر ہم پورے طور پر منصوبہ بندی کر لیں اور پھر اس سکیم پر ہم آج عمل نہیں کرتے بلکہ کل عمل کرتے ہیں تو یہ ٹھیک ہو گا لیکن اگر ہمیں پتہ ہی نہ ہو کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں تو یہ امر ہماری جہالت اور بے توجہی پر دلالت کرے گا۔میرے نزدیک اب ہم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں اور ایسی قوموں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب ہمارے کاموں میں منصوبہ بندی کا ہونا ایک ضروری امر ہے۔امریکہ انگلینڈ، فرانس اور سوئٹزر لینڈ والے سمجھ ہی نہیں سکتے کہ کوئی قوم بغیر کسی پروگرام اور منصوبہ بندی کے کسی کام کے لئے کھڑی ہی کس طرح ہو سکتی ہے۔چاہے دس سال کا پروگرام ہو یا پانچ سال کا بہرحال کچھ نہ کچھ پروگرام تو ضرور ہونا چاہئے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے امریکہ فتح کرنا ہے تو وہ سن کر حیران ہو جاتے ہیں۔ان کی طبیعت میں ایک ہیجان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دعویٰ کرنے والا یا تو کوئی بڑا عقلمند ہے اور یا کوئی بڑا پاگل ہے کیونکہ بڑی سکیم یا تو کوئی بڑا عظمند بنایا کرتا ہے اور یا پھر بڑا پاگل بنایا کرتا ہے۔جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کسی شخص کو اُس کے آقا نے پانچ روپے انعام کے طور پر دیئے۔اس نے برتن خرید لئے اور اندازے لگانے شروع کر دیئے کہ یہ پانچ روپوں کے برتن اتنی قیمت پر بیچوں گا اور اس طرح پانچ روپے آٹھ بن جائیں گے۔پھر آٹھ روپے کے اور برتن لوں گا اور فروخت کروں گا اس طرح بارہ روپے بن جائیں گے۔بارہ سے چوبیس اور چوبیس سے اڑتالیس بن جائیں گے اور پھر برتنوں کی تجارت اور زیادہ وسیع کروں گا۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ایک دن لکھ پتی ہو جاؤں گا اور وزیر مجھ سے درخواست کرے گا کہ میری بیٹی سے شادی کر لو۔میں پہلے تو نخرے کروں گا مگر آخرمان جاؤں گا اور اُسے گھر میں لے آؤں گا مگر جب بیوی گھر میں آئے گی تو میں اُسے پوچھوں گا نہیں۔تین چار دن کے بعد اُس کی ماں اُسے کہے گی کہ تُو جا اور اپنے خاوند سے معافی مانگ، شاید وہ کسی بات پر ناراض ہو گیا ہو۔چنانچہ وہ آئے گی اور کہے گی میرے آقا! میں آپ کی خادمہ ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی ہے کہ آپ مجھ سے بولتے ہی نہیں۔میں پیر اُٹھا کر