خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 481

خطابات شوری جلد سوم ۴۸۱ مشاورت ۱۹۵۲ء جرمنی، اٹلی ، سپین اور فرانس یہ چھ ممالک ہیں جن میں اگر ہماری مسجدیں بن جائیں تو تبلیغ کا بڑا بھاری ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔اگر ان مساجد پر سات لاکھ روپیہ کے خرچ کا بھی اندازہ ہو اور ہم اپنے بجٹ میں ایک لاکھ روپیہ سالانہ تعمیر مساجد کے لئے رکھیں تو سات سال میں اور اگر پچاس ہزار روپیہ رکھیں تو چودہ سال میں اس رقم کو پورا کر سکتے ہیں مگر بہر حال کچھ تو ہونا چاہئے تاکہ ہم اپنے تبلیغ کے کام کو وسیع کرسکیں اور لوگوں کے جمع ہونے کا امکان ہو۔منصوبہ بندی کی ضرورت ایک اور امر جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے کاموں میں منصوبہ بندی نہیں اور یہ ایک خطر ناک نقص ہے جس کو جلد سے جلد دور کرنا ہما را فرض ہے۔ہمارے کام اس وقت تک ہنگامی طور پر چلتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ ہی جو کام نئے ہوتے ہیں وہ شروع میں ہنگامی طور پر ہی چلا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ ہی اس سوال کے جواب میں کہ خلافت تو انتخابی چیز ہے پھر ابوبکر کو کس نے خلیفہ بنایا تھا؟ فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک ہنگامی وقت تھا۔جس شکل میں بھی اُنہوں نے چُنا چُن لیا۔تو شروع میں ہمیشہ ہنگامی کام ہوا کرتے ہیں لیکن آخر میں وہ کسی قانون کے ماتحت آجاتے ہیں اور اگر نہ آئیں تو ان میں بے ترتیبی اور بے اصولا پن پیدا ہو جاتا ہے۔میں اس بارہ میں پچھلے سال سے خطبات دے رہا ہوں مگر میں دیکھتا ہوں کہ نہ جماعت کو اس طرف توجہ ہے اور نہ اُن کارکنوں کو جو وکالتوں یا نظارتوں میں کام کرتے ہیں اس طرف توجہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمارے کام بجائے ہنگامی طور پر چلنے کے منصوبہ بندی کے ماتحت ہونے چاہئیں مگر میرے بار بار توجہ دلانے کے باوجود کسی منصوبہ بندی کے ماتحت کام نہیں ہور ہے بلکہ بعض محکموں میں تو کام ہو ہی نہیں رہا۔میں تو ناظروں اور وکیلوں کو پوسٹ ماسٹر سمجھا کرتا ہوں اور کہا کرتا ہوں کہ تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ تمہارے پاس چٹھیاں آئیں اور تم اُن کا جواب دے دو۔نظارت علیاء کو ہی لے لو سوائے پوسٹ آفس کے اس محکمہ میں کوئی کام نہیں۔نہ نظارتوں کے کام کا معائنہ ہے، نہ ان کے متعلق کوئی رپورٹ ہے، نہ منصوبہ بندی کے لئے اس کی نگرانی میں کوئی مجالس ہوتی ہیں حالانکہ ہم جو